کے سی آر کو شہریت قانون کی مخالفت میں بیان دینے کا چیلنج

   

طلبہ کو گمراہ کرنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ، بی جے پی قائد اندراسین ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 20 ڈسمبر (سیاست نیوز) بی جے پی کے سینئر لیڈر اندرسین ریڈی نے کے سی آر کو چیلنج کیا کہ وہ شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں کھل کر بیان دیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کے سی آر قانون کے خلاف بیان نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ شہریت قانون کے خلاف کانگریس اور ٹی آر ایس ایک ہی انداز میں مخالفت کررہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ شہریت قانون کے خلاف بعض اسکولوں میں طلبہ کو مشتعل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسے اسکولوں کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اندرسین ریڈی نے کہا کہ طلبہ کو قانون سے متعلق غلط معلومات فراہم کرتے ہوئے گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس سلسلہ میں بعض اسکولوں سے متعلق شکایات انہیں موصول ہوئی ہیں۔ ایسے اسکولوں کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اندرسین ریڈی نے آر ٹی سی ملازمین کے ساتھ دھوکہ دہی کا کے سی آر پر الزام عائد کیا اور کہا کہ کے سی آر نے ملازمین سے جو وعدے کئے تھے ان پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ کے سی آر ابھی بھی آر ٹی سی ملازمین کے خلاف موقف اختیار کیئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے آر ٹی سی یونینوں کو منسوخ کرنے کے فیصلے کی مذمت کی اور کہا کہ یونینوں کے بغیر آر ٹی سی ملازمین نے کے سی آر سے ملاقات کی۔ اگر چیف منسٹر کے بغیر مرکزی حکومت راست ارکان اسمبلی سے بات کرے تو کیا کے سی آر قبول کریں گے؟ انہوں نے بتایا کہ سابق وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی بھی یونینوں کو منسوخ کرنے کے مخالف ہیں۔ ٹریڈ یونین نے یونین اہمیت کے حامل ہوتی ہیں اور حکومت کو یونینوں کے خلاف فیصلے کا اختیار نہیں۔ اندرسین ریڈی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملازمین کے ساتھ کئے گئے تمام وعدوں کی جلد تکمیل کریں۔