کے سی آر کی مخالف عوام حکمرانی سے تلنگانہ کو نجات دلانے کی ضرورت

   

یوتھ کانگریس کا تلنگانہ بچائو جلسہ عام، ہنمنت رائو، پونم پربھاکر اور انیل کمار یادو کا خطاب
حیدرآباد۔ 29 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ یوتھ کانگریس کے زیر اہتمام ٹی آر ایس حکومت کی تمام دشمن پالیسیوں اور نوجوانوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکامیوں کے خلاف گاندھی بھون میں تلنگانہ بچائو جلسہ عام منعقد کیا گیا۔ سابق صدر پردیش کانگریس وی ہنمنت رائو پردیش کانگریس کے ورکنگ پریسیڈنٹ پونم پربھاکر اور یوتھ کانگریس کے آل انڈیا صدر سرینواس کے علاوہ کانگریس اور یوتھ کانگریس کے کئی قائدین نے شرکت کی۔ مقررین نے تلنگانہ کو کے سی آر کی حکمرانی سے نجات دلانے کی اپیل کی اور کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران طلبہ اور نوجوانوں سے کئی وعدے کئے گئے تھے لیکن اقتدار کے چھ سال گزرنے کے باوجود آج تک وعدوں کی تکمیل نہیں کی گئی۔ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا لیکن تلنگانہ ریاست میں بے روزگاری کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ سماج کے تمام طبقات کے سی آر حکومت سے مایوس ہوچکے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوام میں شعور بیداری کی ضرورت ہے۔ یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر انیل کمار یادو یوتھ کانگریس کے قومی سکریٹری جے وی ماتھر، یوتھ کانگریس قومی صدر بی وی سرینواس نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت کے خلاف متحدہ طور پر آواز بلند کریں۔ انیل کمار یادو نے کے سی آر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہر سال ہزاروں نوجوان بی ایڈ کی تکمیل کرتے ہوئے تقررات کے منتظر ہیں لیکن حکومت نے ڈی ایس سی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اساتذہ کے تقررات کے بجائے حکومت 12 ہزار اسکولوں کو بند کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ غریبوں کو کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا لیکن آج اسکولوں کو بند کرتے ہوئے غریب اور متوسط طبقات کو تعلیم سے محروم کیا جارہا ہے۔ انیل کمار یادو نے کہا کہ چیف منسٹر کے اعلانات سے گریجویٹس اور بیروزگار نوجوان مایوس ہوچکے ہیں۔ انہوں نے سرکاری محکمہ جات کی تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے لیے یوتھ کانگریس کی جانب سے ریاست گیر سطح پر احتجاج منظم کیا جائے گا۔ قومی صدر بی وی سرینواس نے کہا کہ کے سی آر نے ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کے سی آر سے سوال کیا کہ گزشتہ چھ برسوں میں کتنے نوجوانوں کو روزگار حاصل ہوا ہے۔ انتخابات کے وقت کے سی آر نے نوجوانوں کو بے روزگاری بھتے کے کانگریس کے وعدے کی نقل کرتے ہوئے ماہانہ 3016 روپئے ادائیگی کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک اسکیم پر عمل آوری شروع نہیں ہوئی ہے۔ مرکز میں نریندر مودی اور ریاست میں کے سی آر عوامی مسائل کی یکسوئی میں ناکام ہوچکے ہیں۔ انہوں نمے آر ٹی سی ہڑتال سے نمٹنے میں کے سی آر حکومت کے رویہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ 52 دنوں تک ملازمین کو مسائل کا شکار رکھ کر سیاسی مقصد براری کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی پر رجوع ہونا ملازمین کا بنیادی حق تھا اور حکومت نے کوئی احسان نہیں کیا ہے۔