کے سی آر کے بھی جملے‘تلنگانہ گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ، ہندو مسلم میری دو آنکھیں

,

   

دو سرپنچوں کی علحدہ کہانی، کلکٹر کی کارروائی سیاسی جماعت خاموش

حیدرآباد ۔ 8 اکٹوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر ٹی آر ایس کو ایک سیکولر جماعت اور ہندو مسلم دونوں کو اپنی دونوں آنکھیں قرار دینے کے معاملے میں تکھتے نہیں ہے اور تلنگانہ کو گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کی یہ فکر اور سوچ قابل ستائش ہے مگر خالی جملے ادا کرنا کافی نہیں ہے بلکہ اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ باتیں کرنا الگ ہے اور اس پر قائم رہنا الگ ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر ایک طرف ملک میں نفرت پھیلانے اور مذہب کا استحصال کرنے کا بی جے پی پر الزام عائد کررہے ہیں۔ فرقہ پرست بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل کرنے کیلئے قومی سیاست میں سرگرم رول ادا کرنے کا اعلان کررہے ہیں مگر ٹی آر ایس پارٹی کے حلقوں میں بھی بی جے پی نظریات فروغ پارہے ہیں جس کا محاسبہ کرنا چیف منسٹر کے سی آر کیلئے بے حد ضروری ہے۔ پہلے اپنی پارٹی میں سر ابھارنے والے فرقہ پرستوں کا حاتمہ کرتے ہوئے آگ بھڑکاتے ہیں تو سماج کے تمام طبقات ان پر بھروسہ کریں گے ورنہ انہیں ملک کی سب سے بڑی اقلیت کی تائید سے محروم ہونا پڑے گا۔ ریاست تلنگانہ میں 48 گھنٹوں کے دوران دو اضلاع میں دو واقعات پیش آئے ہیں اور ان دو واقعات میں حکمران جماعت ٹی آر ایس کے سرپنچس ملوث ہیں۔ ضلع سنگاریڈی کے کندی موضع کے ایک تانڈے میں مسجد پر بھگوا جھنڈا لہرایا گیا اور مسجد کے دیواروں کو زعفرانی رنگ سے رنگ دیا گیا جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ پڑوسی ریاست کرناٹک میں بی جے پی کی حکمرانی ہے جس دن مدرسہ مسجد محمودگاواں بیدر کی سرپشندوں نے بے حرمتی کی ہے اسی دن تلنگانہ کے ضلع سنگاریڈی کی مسجد میں اس طرح کا واقعہ یپش آیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کرناٹک میں فرقہ رپست بی جے پی کی حکومت ہے اور تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی سیکولر حکومت ہے جہاں کی سرپنچ اور ایم پی ٹی سی رکن دونوں میاں بیوی ہے اور دونوں کا تعلق ٹی آر ایس سے ہے اور دونوں کی قیادت میں منظم کردہ دسہرہ جشن میں یہ شرپسندی ہوئی ہے۔ مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے پر متعلقہ کلکٹر نے سرپنچ کو عہدے سے معطل نہیں کیا اور نہ ہی ان کے شوہر کے خلاف کوئی کارروائی کی ہے۔ دوسری جانب ٹی آر ایس قیادت بھی تماشائی بنی رہی ہے۔ سرپنچ اور ایم پی ٹی سی رکن کو نہ پارٹی سے معطل کیا اور نہ ہی انہیں وجہ نمائی نوٹس دی گئی ہے۔ ضلع محبوب نگر کے ہنواڑہ منڈل میں ایک اور غیرانسانی واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک ٹی آر ایس کے سرپنچ نے ایک معذور کو لات مارا اور گالی گلوچ کی ہے۔ اس کا قصور صرف اتنا ہیکہ وہ مناسب روزگار اسکیم کے تحت فنڈز کی عدم اجرائی پر تحصیل آفس میں آر ٹی اے درخواست داخل کرتے ہوئے تفصیلات طلب کی تھی جس کی اطلاع سرپنچ کو ملنے پر سرپنچ نے معذور شخص کے گھر پہنچ کر اس پر حملہ کردیا۔ اس کی ویڈیو سوشل میڈیا سے وائرل ہونے کے بعد کلکٹر نے سرپنچ کو عہدہ سے معطل کردیا اور پولیس نے مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کرتے ہوئے سرپنچ کو گرفتار کرلیا۔ اس معاملے میں بھی ٹی آر ایس قیادت نے خاموشی اختیار کی ہے۔ دونوں معاملات میں ٹی آر ایس کے سرپنچس ملوث ہونے کے باوجود ٹی آر ایس قیادت نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ کیا یہی گنگاجمنی تہذیب ہے۔ اس پر عوام سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔ن