ریاستی وزراء تقاریب کے مجسموں کی طرح، مرکزی فنڈس کے عدم استعمال کا الزام
حیدرآباد۔ 13 ڈسمبر (سیاست نیوز) بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن نے ریمارک کیا کہ کے سی آر گائے کی کھال اوڑے ہوئے شیر کی طرح ہیں جو عوام کو گمراہ کرتے ہوئے ریاست کے خزانے کو لوٹ رہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ تلنگانہ کرپشن اور قرض میں ڈوب چکا ہے۔ کے سی آر حکومت کی دوسری میعاد کا ایک سال مکمل ہوا لیکن عوام کی بھلائی میں حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے کے سی آر گائے کی کھال اوڑھے ہوئے شیر کی طرح ہیں۔ ریاستی وزراء کو تقاریب کے مجسموں میں تبدیل کردیا گیا ہے اور وہ عوام کی بھلائی کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔ طلبہ کے فیس ری ایمبرسمنٹ اور بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ الائونس دیئے جانے کا اعلان آج تک پورا نہیں ہوا۔ کسانوں کے قرض معافی اور رائیتو بندھو اسکیم پر عمل آوری میں حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔ رائیتو بندھو کے تحت کسانوں کو 900 کروڑ روپئے کی رقم قابل ادائیگی ہے۔ ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کو دو لاکھ 10 ہزار مکانات کی تعمیر کے لیے فنڈس فراہم کئے تھے لیکن ٹی آر ایس حکومت نے 30 ہزار مکانات بھی تعمیر نہیں کیئے۔ ریلوے لائنس کی ترقی کے لیے تلنگانہ حکومت اپنی حصہ داری ادا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے شہریت ترمیمی بل کو ٹی آر ایس کی مخالفت کی وجوہات عوام میں بیان کرنے کے سی آر سے مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور کے سی آر کے بیانات میں یکسانیت ہے۔ ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ کے سی آر نے تلنگانہ کو کرپشن میں تبدیل کردیا ہے۔ معاشی منصوبہ بندی کے بغیر حکومت کام کررہی ہے جس کے نتیجہ میں عوام پر بوجھ عائد ہوچکا ہے۔ 30 آر ٹی سی ملازمین کی موت کے بعد چیف منسٹر کو ملازمین کی بھلائی کا خیال آیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس مرکز پر فنڈس کی عدم اجرائی کا الزام عائد کررہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مرکز کے جاری کردہ فنڈس کو بہتر انداز میں خرچ نہیں کیا گیا۔ حکومت کو شراب کی فروخت سے آمدنی میں اضافے کی فکر ہے۔ ڈاکٹر لکشمن نے ریمارک کیا کہ ٹی آر ایس قائدین دہلی میں قدم جمارہے ہیں جبکہ حیدرآباد میں آنسو بہارہے ہیں۔ ہریتاہارم کے نام پر کروڑہا روپئے کی لوٹ کھسوٹ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کا معاملہ بغل میں چھری اور زبان پر مٹھاس کی طرح ہے۔ بظاہر حکومت کی کارکردگی بہتر دکھائی دیتی ہے جبکہ اندرونی معاملہ کھوکلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے انٹرمیڈیٹ طلبہ کے مستقبل کو تاریک کردیا ہے۔ فیس ری ایمبرسمنٹ کے تحت 5 ہزار کروڑ روپئے کی اجرائی باقی ہے۔ گزشتہ چھ برسوں میں صرف 30 ہزار جائیدادوں پر تقررات کئے گئے۔