کے سی آر 1993کے بحران کو نہ بھولیں: اشوتھاما ریڈی

   

فون ٹیاپنگ کا الزام، ہریش رائو اور راجیندر خاموشی توڑیں
حیدرآباد۔17 اکٹوبر (سیاست نیوز) آر ٹی سی جے اے سی کے کنوینر اشوتھاما ریڈی نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی جانب سے ان کا فون ٹیاپ کیا جارہا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اشوتھاما ریڈی نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ میرا فون ٹیاپ کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر کا عہدہ کسی کے لیے مستقل نہیں ہوتا۔ کئی قائدین آئے اور چلے گئے۔ کیا کے سی آر این ٹی آر سے زیادہ ہوشیار ہیں؟ انہوں نے کہا کہ 1993-94 کے این ٹی آر کے سیاسی بحران کو کے سی آر بھولنا نہیں چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر جمہوریت کی بنیادوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آر ٹی سی ہڑتال کی یکسوئی نہیں کی گئی تو 1994ء کی طرح بحران پیدا ہوگا۔ ٹی آر ایس کے دو ارکان اسمبلی نے آر ٹی سی ہڑتال کی تائید میں بیان جاری کیا ہے۔ ریاستی وزراء ہریش رائو، ای راجندر اور جگدیش ریڈی کو اپنی خاموشی توڑنی چاہئے۔ سماج کے دانشور طبقے کو خاموشی نہیں رہنا چاہئے۔ کنوینر جے اے سی نے کہا کہ حکومت سے بات چیت کیلئے وہ تیار ہیں۔ حکومت کو ہائی کورٹ کی تجویز کو قبول کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ہٹ دھرمی کا رویہ اختیار کرے تو ملازمین اپنے موقف پر قائم رہیں گے۔ اشوتھاما ریڈی نے بتایا کہ ریاستی وزراء کو ہڑتال سے پیدا ہونے وا لے مسائل اور ملازمین کے مطالبات کے سلسلہ میں واقف کرایا گیا ہے۔