کے وی رنگا ریڈی ڈگری کالج انتظامیہ کا قابل اعتراض رویہ

,

   

فرقہ وارانہ ذہنیت حیدرآباد کے تعلیمی اداروں تک بھی پہونچ گئی
برقعہ اتارنے پر ہی امتحان ہال میں داخلہ کی اجازت
حیدرآباد : /16 جون (سیاست نیوز) انٹرمیڈیٹ سپلمنٹری امتحانات میں مسلم طالبات کو کے وی رنگاریڈی ڈگری کالج انتظامیہ نے مبینہ طور پر برقعہ اتارنے پر مجبور کردیا اور زور دیا کہ وہ برقعہ پہن کر امتحان نہیں لکھ سکتے ۔ بتایا گیا کہ انٹرسپلمنٹری امتحانات کیلئے کئی طالبات آج مذکورہ کالج پہنچی تھی کہ سیکور یٹی اسٹاف نے طالبات کو روک دیا اور برقعہ اتارنے پر مجبور کردیا ۔ کئی طالبات نے مرد سیکوریٹی اسٹاف کے سامنے برقعہ اتارنے سے انکار کردیا لیکن انہیں برقعہ اتارنے پر ہی امتحان ہال میں داخلہ دیا ۔ آج صبح طالبات امتحانی مرکز کو پہنچنے پر ان کا پہلے ہال ٹکٹ اور شناختی کارڈ کی جانچ کی گئی اور بعد ازاں برقعہ اتارنے کی شرط رکھی گئی ۔ مرد سیکور یٹی اسٹاف کے رویہ سے طالبات نے کالج کے باہر احتجاج کیا اور انتظامیہ کے اس رویہ کی سرزنش کی ۔ حالانکہ امتحانی مراکز میں برقعہ پہننے پر کوئی امتناع نہیں ہے لیکن کے وی رنگاریڈی ڈگری کالج انتظامیہ نے مسلم طالبات کو روک کر اپنے تعصب کا اظہار کیا ۔ اس بات کا پتہ چلنے پر مقامی پولیس وہاں پہنچ گئی لیکن کالج کے خلاف کوئی شکایت درج نہیں کی گئی ۔ کالج انتظامیہ کی اس حرکت پر طالبات ہی نہیں بلکہ والدین نے بھی سخت احتجاج کیا اور کالج کے ذمہ داران نے اس پر اپنا موقف واضح کرنے سے انکار کردیا ۔ ایک طرف تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد کو گنگاجمنی تہذیب کا گہوارہ ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور اس قسم کے تازہ ترین واقعہ سے کالج کے انتظامیہ کا تعصب کھل کر سامنے آگیا ہے ۔ پولیس نے سارے معاملہ کی تفصیل حاصل کرلی ہے اور پتہ چلا ہے کہ اس پر ایک مقدمہ درج کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔ ب