گھر پہونچ کر ملاقات ‘ہر ممکن تعاون کا تیقن، سانحہ سے حیدرآباد میں غم کی لہر
حیدرآباد ۔ 20۔نومبر (سیاست نیوز) بی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے سابق صدرنشین وقف بورڈ و سابق ایم ایل سی محمد سلیم کے ہمراہ مدینہ منورہ کے قریب بس سانحہ میں جاں بحق ایک خاندان کے 18 افراد کے پسماندگان سے ملاقات کی اور تعزیت کا اظہار کیا ۔ کے ٹی آر نے واقعہ پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمرہ کی ادائیگی کے بعد مدینہ منورہ کے راستہ میں اندوہناک حادثہ میں 45 زائرین کے جاں بحق ہونے کے واقعہ سے حیدرآباد میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ انہوں نے پسماندگان کو بی آر ایس کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ مقامی بی آر ایس قائدین اور اقلیتی قائدین سے ربط قائم کرسکتے ہیں۔ کے ٹی آر نے پسماندگان کے ساتھ کافی وقت گزارا اور 18 زائرین میں کمسن بچوں کی موجودگی کے بارے میں سننے کے بعد مغموم ہوگئے۔ الحاج محمد سلیم نے کے ٹی آر کو متاثرین کی تفصیلات سے واقف کرایا اور کہا کہ سعودی حکومت کی جانب سے مدینہ منورہ میں تدفین کے انتظامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے سرکاری وفد کے علاوہ بی آر ایس نے بھی دو قائدین کو متاثرین کی مدد کیلئے سعوی عرب روانہ کیا ہے ۔ محمد سلیم نے کہا کہ عمرہ کی ادئیگی کے بعد مدینہ منورہ کی حاضری سے عین قبل حادثہ میں جاں بحق ہونا اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہادت کا درجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس حادثہ میں حیدرآباد کے کئی خاندانوں کو قریبی افراد سے محروم کردیا ہے ۔ محمد سلیم نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کے علاوہ حکومت سعودی عرب کو بھی متاثرہ خاندانوں کی مدد کرنی چاہئے۔ انہوں نے مہلوکین کے پسماندگان سے خواہش کی کہ وہ کسی بھی مسئلہ کے حل کیلئے ان سے رجوع ہوں اور وہ ہر ممکن تعاون کریں گے۔ واقعہ کے بارے میں اطلاع ملتے ہی صدر بی آر ایس کے سی آر اور ورکنگ صدر کے ٹی آر نے پارٹی کے وفد کو مدینہ منورہ روانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ محمد سلیم نے کہا کہ بی آر ایس ہمیشہ اقلیتوں کی ہمدرد رہی ہے اور دس سالہ دور حکومت میں اقلیتوں کی ترقی و فلاح و بہبود کیلئے غیر معمولی خدمات انجام دی گئیں۔1