میناریٹی ڈیکلریشن کا کوئی بھی وعدہ پورا نہ ہونے کا شیخ عبداللہ سہیل کا الزام
حیدرآباد ۔ 8 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسڈنٹ کے ٹی آر نے آج تلنگانہ بھون میں کیلنڈر 2026 کی رسم اجراء انجام دی ۔ جو بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت کے اقلیتی فلاح و بہبود پر مرکوز ہے ۔ جس کو بی آر ایس کے سینئیر قائد شیخ عبداللہ سہیل نے تیار کروایا ہے ۔ جس میں بی ار ایس کے سربراہ اور سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے اقوال بھی درج کئے گئے ہیں ۔ بی آر ایس کے دور حکومت کا جائزہ پیش کرنے والے اس کیلنڈر میں مسلم اقلیت کے لیے متعارف کردہ اہم فلاحی اسکیمات اور انفراسٹرکچر منصوبوں کو نمایاں کیا گیا ہے ان میں شادی مبارک اسکیم ، کے سی آر کٹس ، ٹمریز کا قیام اور ہر سال افطار پارٹیوں کا انعقاد شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ نئے سکریٹریٹ میں مساجد کی تعمیر ، انیس الغربا کی بحالی اردو مسکن اور جامعہ نظامیہ آڈیٹوریم جیسے اداروں کی ترقی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے ۔ کیلنڈر کے رسم اجراء کے موقع پر بی آر ایس قائدین نے کہا کہ یہ کیلنڈر شمولیاتی ترقی کا دستاویزی ریکارڈ ہے ۔ بی آر ایس کی حکمرانی میں پسماندہ طبقات کی بااختیاری کومرکزی حیثیت حاصل رہی ۔ ان کے مطابق تعلیم ، وقار اور مساوی مواقع بی آر ایس کی فلاحی پالیسی کے بنیادی ستون رہے ہیں ۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے اقلیتوں کو عوامی زندگی میں نمایاں مقام اور مضبوط آواز دی ۔ اور اس کی پالیسیاں محض علامتی نہیں بلکہ حقیقی با اختیاری کی مثال ہیں ۔ انہوں نے موجودہ کانگریس حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اقلیتی مسائل کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ کانگریس کے میناریٹی ڈیکلریشن کا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا دو برسوں میں اقلیتی بہبود بجٹ کا نصف سے بھی کم خرچ کیا گیا ۔ اقلیتی سب پلان نافذ نہ ہوسکا اور نوجوانوں کے لیے ایک ہزار کروڑ روپئے کی سبسیڈی قرض اسکیم محض کاغذوں تک محدود ہے اس موقع پر بی ار ایس کے ایم ایل سی داسوجو شراون ، مسیح اللہ خان ، اعظم علی کے علاوہ دوسرے موجود تھے ۔۔ 2
