کے ٹی آر نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو بدعنوان ایناکونڈا قرار دیا

   

Ferty9 Clinic

جی ایچ ایم سی کی توسیع ، HILTP پالیسی اور بی سی تحفظات کے معاملے میں حکومت پر تنقید کی
حیدرآباد ۔ 26 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے جی ایچ ایم سی کی توسیع ، بی سی تحفظات میں کمی پر نہ صرف حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ HILTP پالیسی ریاستی نظم و نسق کے کئی اقدامات پر بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا ۔ آج اپنے ورنگل دورے کے دوران کے ٹی آر نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے کئی اہم فیصلوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بھائیوں اور قریبی پیروکاروں کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں کررہے ہیں ۔ کانگریس حکومت عوامی مفادات کے بجائے ، چند مخصوص لوگوں کے فائدے کے لیے کام کررہی ہے ۔ HILTP پالیسی عام شہریوں کے لیے نہیں بلکہ کچھ با اثر حلقوں کے مفادات کی تکمیل کے لیے متعارف کرائی گئی ہے ۔ کے ٹی آر نے جی ایچ ایم سی کی توسیع پر بھی کئی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کابینہ میں فیصلہ لینے سے پہلے متعلقہ علاقوں کے ارکان اسمبلی ، ارکان قانون ساز کونسل ، بلدیاتی اداروں کی رائے کیوں نہیں لی گئی ۔ میونسپلٹیز اور کارپوریشنس کو اچانک جی ایچ ایم سی میں ضم کرنے کا فیصلہ شفافیت سے عاری ہے اور اس کے پیچھے ’ رئیل اسٹیٹ لابی ‘ کا ہاتھ نظر آتا ہے ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے الزام لگایا کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خانگی افراد کو مہنگی اراضیات دی جارہی ہیں ۔ فیوچرسٹی کے نام پر رئیل اسٹیٹ کا کاروبار چمکایا جارہا ہے ۔ کے ٹی آر نے 42 فیصد بی سی تحفظات کے نام پر بی سی طبقات کو دھوکہ دینے کا کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا اور کہا کہ ذات پات کی مردم شماری کے نام پر 160 کروڑ روپئے ضائع کردئیے گئے ۔ 42 فیصد تحفظات کا وعدہ کرتے ہوئے بی سی طبقات کو صرف 17 فیصد تحفظات فراہم کئے جارہے ہیں جو سابق کے 24 فیصد سے بھی کم ہے ۔ حکومت کا یہ فیصلہ بی سی طبقات کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے ۔ کے ٹی آر نے راہول گاندھی سے سوال کیا کہ وہ ’ وعدہ خلافی اور دھوکہ دہی ‘ کا کیا جواب دیں گے ۔۔ 2