مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس، بارش کی تباہ کاریوں کو روکنے ٹھوس منصوبہ بندی کی ہدایت
گمبی راؤ پیٹ ۔ حلقہ سے نمائندگی کرنے والے ریاستی وزیر بلندی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے آج اچانک سرسلہ کا دورہ کرتے ہوئے گذشتہ روز بارش کی وجہ پیش آئے صورتحال کا تفصیلی طور پر جائزہ لیا ۔ کے ٹی آر نے سرسلہ آتے ہی سیدھا کلکٹریٹ پہونچے جہاں کلکٹر انوراگ جینتی سمت ضلعی حکام نے ان کا استقبال کیا ۔ اس کے بعد کے ٹی آر نے ضلعی عہدیداروں کے ساتھ کلکٹریٹ چیرمین بارش کی وجہ علاقے میں پیش آنے حالات کا تفصیلی طور پر جائزہ لیا اور اس طرح پیش آنے والی حالات کی وجوہات معلوم کی اور آئندہ اس طرح کے حالات رونما نہ ہونے کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے محکمہ جاتی عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اندرون ایک ہفتہ تباہ کاریوں کی تفصیلی رپورٹ انہیں پیش کریں اور ایسا منصوبہ بنائیں کہ بارشوں کی تباہی سے سرسلہ محفوظ رہ سکے ۔ اس موضع پر ضلعی کلکٹر انوراگ جینتی و ضلع ایس پی بی کے راہلو ہیگڈے ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ کو شہر کے حالات سے واقف کروایا اور محکمہ رویونیو و پولیس کی بروقت کی گئی کارروائیوں اور راحت کاری کاموں سے بھی انہیں واقف کروایا ۔ بعد ازاں کے ٹی راماراؤ نے بعض محلہ جات پہونچکر پانی سے بھرے محلہ جات کا دورہ کرتے ہوئے عوام سے ملاقات کیں اور انہیں تیقن دیا کہ وہ ٹھوس اقدامات کے ذریعہ انہیں مدد کریں گے ۔ اس موقع پر کے ٹی آر نے عوام کو ان حالات کے درمیان احتیاط اور ہمت سے رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے ناگہانی صورتحال دوران کنٹرول روم کو اطلاعات فراہم کرنے کی اپیل کی ۔ اس موقع پر کے ٹی آر نے عہداروں کو حکم دیا کہ وہ اس بات کو یقنی بنائیں کہ سیلاب کا مسئلہ ایک بار پھر نہ دہرائے۔ جائزہ میٹنگ میں کلکٹر انوراگ جینتی ، ایس پی راہل ہیگڑے ، آبپاشی ، میونسپل ، پنچایت ، زراعت اور دیگر متعلقہ سرکاری محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ سرسلہ ضلع منگل کو ریکارڈ توڑ بارش سے متاثر ہوا۔ ضلع بھر میں 15 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ حکام نے بتایا کہ 30 سال بعد اس علاقے میں شدید بارش ہوئی۔ کوناراوپیٹ زون میں دھرمارام تالاب کو نقصان ہوا جس سے سرسلہ میں پانی بھر گیا کیونکہ اس کے نتیجے میں ، وینکمپیٹا ، پرگتی نگر ، سیون نگر ، اشوک نگر ، پٹا اسٹینڈ ، سنجیویاگر ، نیتن چوک ، مین بازار اور شانتی نگر کے اندرونی وارڈ زیر آب آگئے۔ گہرے پانی میں سیلاب کے باعث لوگوں کو محفوظ علاقوں میں منتقل کیا گیا۔ پانی دکانوں ، شاپنگ مالز اور میڈیکل ہالوں میں گھس گیا جس سے کپڑوں اور ضروری اشیاء کو نقصان پہنچا۔ سرسلہ میں، پرانہ بس اسٹینڈ اور کلکٹریٹ سیلاب کے پانی سے تالاب میں تبدیل ہو گئے۔ تمام افسران باہر رہے اور امدادی کاموں میں مصروف رہے کیونکہ کلکٹریٹ کے دروازے بھی کھلے نہیں تھے۔ تمام بسیں ٹنگلی پلی کے چوک پر رک گئیں کیونکہ پرانا بس اسٹینڈ تالاب میں بدل گیاتھا۔ اس موقع پر کلکٹرآنورگ جینتی و ضلع ایس پی راہول ہیگڑے سمیت مختلف محکمہ جاتی عہداران موجود تھے جنہوں نے ریاستی وزیر کو راحت کاموں سے واقف کروایا ۔واضح رہے کہراجننہ سرسلہ ضلع مستقر پر گزشتہ روز ہوئی بارش کی وجہ زبردست نقصانات کی اطلاعات فراہم ہو رہی ہیں ابھی بھی مقامات پر پانی جمع رہنے کی اطلاعات ہیں جبکہ سنجو نگر کا ایک شخص بالیا جو کہ کل پانی کے اس بہاؤ میں بہیہ چکاتھا جس کی نعش کو آج NRDF کے ریسکیو ٹیم نے پانی بہیہ نے والے مین ہول سے نکالا مزید بارش میں پیش قیاسی کی اطلاعات پر عوام میں خوف کا ماحول دیکھا جارہا ہے جبکہ ضلع انتظامیہ راحت کاری میں مصروف ہے علاقے سے نمائندگی کرنے والے ریاستی وزیر کے ٹی آر نے عوام کو ہمت سے رہنے کی اور ناگہانی صورتحال کے دوران کنٹرول روم سے ربط کرنے کی خواہش کی ۔
