KLSR کمیٹی کے خلاف سی بی آئی اور ای ڈی تحقیقات کرانے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 13 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے تلنگانہ کی موجودہ صورتحال اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اپنے مکتوب میں کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ ریاست میں حالات ابتر ہوچکے ہیں ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے حامی امن و امان میں خلل پیدا کررہے ہیں ۔ چیف منسٹر کی مبینہ بے نامی کمپنی KLSR انفراٹیک کے خلاف درج مقدمات کی تحقیقات کے دوران ریاستی حکومت نے ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیا ہے ۔ چند سرکاری عہدیداروں نے عدالت میں یہ بیان دیا کہ جمع کئے گئے شواہد ضائع ہوگئے ہیں جو انتہائی تشویشناک ہے ۔ کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ چیف منسٹر نے اپنی مبینہ بے نامی کمپنی کو بچانے کے لیے عہدیداروں پر دباؤ ڈالا اور تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش کی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں انتظامیہ مکمل طور پر بگڑ چکا ہے اور پولیس عہدیداروں کو آزادانہ تحقیقات کرنے نہیں دیا جارہا ہے ۔ مکتوب میں بتایا گیا کہ ریونت ریڈی نے مبینہ طور پر KLSR Infratech کو 2500 کروڑ روپئے سے زیادہ بڑے کنٹراکٹ دئیے گئے ہیں ۔ حالانکہ کمپنی پہلے ہی دیوالیہ پن کی کارروائی سے گزر رہی ہے ۔ آبپاشی اور پینے کے پانی کے منصوبوں کے علاوہ ینگ انڈیا اسکول پراجکٹس اور سڑکوں کی تعمیر جیسے بڑے کام بھی اس کمپنی کو دئیے جارہے ہیں ۔ کے ٹی آر دعویٰ کیا کہ کمپنی اور چیف منسٹر کے درمیان تعلقات سب کو معلوم ہے اور یہ بھی الزامات ہیں کہ ریونت ریڈی نے کمپنی کے معاملے میں نیشنل کمپنی لاٹریبونل کی کارروائی میں مداخلت کی ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی ریاستی حکومت کو کمپنی کے معاملے میں درست جانچ کرنے اور حقیقت کو سامنے لانے کی ہدایت دے چکی ہے ۔ لیکن ریاستی حکومت اس پر توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ کے ٹی آر نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن ( سی بی آئی ) انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ( ای ڈی ) سریس فراڈ انوسٹی گیشن آفس ( ایس ایف آئی او ) جیسی مرکزی ایجنسیوں کو فوری طور پر تحقیقات کا حکم دیا جائے ۔ انہوں نے اس مکتوب کے کاپیاں مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن مرکزی وزیر برائے صنعت و تجارت پیوش گوئل اور مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال کو بھی روانہ کی ۔۔ 2