کے ٹی آر کو جیل جانے کا خوف لاحق: رکن اسمبلی سرینواس

   

انحراف کے مسئلہ پر تبصرہ کا بی آر ایس قائدین کو حق نہیں
حیدرآباد ۔25۔ اکتوبر (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن اسمبلی اے سرینواس نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کو جیل جانے کا خوف لاحق ہوچکا ہے اور وہ حکومت کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کر رہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اے سرینواس نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں جو دھاندلیاں اور بے قاعدگیاں کی گئیں ، ان کی تحقیقات سے کے ٹی آر خوفزدہ ہیں اور انہیں اندیشہ ہے کہ بے قاعدگیوں کیلئے انہیں جیل جانا پڑے گا۔ اسی خوف اور الجھن کے باعث کے ٹی آر حکومت کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ رکن اسمبلی نے کہا کہ دس برسوں میں جو بھی اسکامس کئے گئے، وہ بہت جلد منظر عام پر آئیں گے اور اسکامس میں ملوث افراد کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر نے 10 برسوں میں جو نہیں کیا وہ کانگریس نے 10 ماہ میں کر دکھایا۔ اگر مزید انتظار کرے تو کانگریس کی نئی اسکیمات کا آغاز ہوگا۔ ارکان اسمبلی کے انحراف کا حوالہ دیتے ہوئے رکن اسمبلی اے سرینواس نے کہا کہ کے ٹی آر کو انحراف کے مسئلہ پر اظہار خیال کا اخلاقی حق نہیں ہے ۔ بی آر ایس نے 10 برسوں میں اپوزیشن کے 60 سے زائد ارکان اسمبلی اور کونسل کو بی آر ایس میں شامل کیا تھا۔ بعض منحرف ارکان کو استعفیٰ کے بغیر ہی کابینہ میں شامل کیا گیا تھا ۔ کانگریس رکن اسمبلی نے کہا کہ کے سی آر نے انحراف کی جس طرح حوصلہ افزائی کی، اس پر کے ٹی آر کو اپنا ردعمل ظاہر کرنا چاہئے ۔ اقتدار میں جمہوریت کو فراموش کرنے والے کے سی آر آج کانگریس کو جمہوریت اور اصولوں کا درس دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے اسمبلی حلقہ جات کی ترقی کیلئے بی آر ایس کے ارکان اسمبلی نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف مہم کا عوام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور حکومت پر عوام کا اٹوٹ اعتماد ہے۔ 1