کے ٹی آر کی کاوش، شہر میں ویکسین ٹسٹنگ سنٹر کے حصول میں معاون

   

حیدرآباد ۔ 28 اگست (سیاست نیوز) ہندوستان میں ویکسین کی تیاری اور سپلائی کیلئے ایک بڑے ابھار میں حیدرآباد میں واقع نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انیمل بائیو ٹکنالوجی (NIAB) کو اب ایک سنٹرل ڈرگس لیباریٹری (COL) کے طور پر نوٹیفائی کیا گیا ہے اور اسے پی ایم کیرس فنڈس کا استعمال کرتے ہوئے اپ گریڈ کیا جائے گا۔ وزارت سائنس اینڈ ٹکنالوجی نے ہفتہ کو یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ویکسین بیاچس کی جلد ریلیز کیلئے کوویڈ۔19 ویکسینس کی ٹسٹنگ کو باقاعدہ بنانا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری ایک صحافتی ریلیز کے مطابق NIAB کو اب پونے میں واقع نیشنل سنٹر فار سیل سائنس (NCCS) کے ساتھ ایک ماہ میں ویکسین کے 60 بیاچس تک ٹسٹ کرنے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس سے مینوفکچررس کو انہیں ٹسٹ کرنے میں آسانی ہوگی بجائے انہیں ہماچل پردیش سی ڈی ایل کو روانہ کرے۔ یہ اقدامیت کا حامل ہے کیونکہ تلنگانہ کے وزیرانفارمیشن ٹیکنالوجی کے ٹی راماراؤ نے جولائی 2020ء میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ این آئی اے بی کو سی ڈی ایل کے طور پر اعلان کیا جائے۔ انہوں نے یہ مطالبہ ویکسین تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا تھا جس میں انڈسٹری لیڈرس نے انہیں بتایا تھا کہ انہیں ہماچل پردیش سی ڈی ایل کو نمونے روانہ کرنے کی بعد کس طرح تاخیر کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اس میں ٹرانسپورٹ کی رکاوٹیں بھی ہورہی ہیں۔ تب راماراؤ نے اس معاملہ میں مرکزی حکومت سے بات چیت کی تھی۔