غیر ضمانتی دفعات، دوبارہ احتجاج کرنے محمد علی شبیر کی دھمکی
حیدرآباد ۔4۔ مارچ (سیاست نیوز) کے ٹی آر کے فارم ہاؤز کی فلمبندی کرنے پر کانگریس کے پانچ قائدین کو پولیس نے گرفتار کرلیا ۔ سابق وزیر محمد علی شبیر ، یوتھ کانگریس کے صدر انیل کمار یادو اور دیگر قائدین نے پولیس اسٹیشن پہنچ کر احتجاج کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دو دن قبل ریونت ریڈی کے ہمراہ جنواڑہ کا دورہ کرنے والے کانگریسی قائد جئے پال ریڈی اور دیگر پانچ کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ انہیں غیر ضمانتی دفعات کے تحت مقدمات میں ماخوذ کرتے ہوئے عدالت میں پیش کیا جارہا ہے تاکہ جیل منتقل کرسکیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ پولیس کی اجازت کے بغیر ڈرون کیمرہ کا استعمال جرم ضرور ہے لیکن دفعہ 188 کے تحت پولیس اسٹیشن میں ضمانت دی جاسکتی ہے۔ چونکہ یہ معاملہ کے ٹی آر کے فارم ہاؤز کا ہے، لہذا پولیس نے زائد دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور غیر ضمانتی دفعات لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں بروقت جرمانہ عائد کرتے ہوئے رہا کیا جاسکتا ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر کے عہدے کے خواہشمند شخص کے لئے مناسب نہیں کہ وہ سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرے۔ جنواڑہ میں کے ٹی آر کی شریک حیات کے نام پر 8 ایکر اراضی کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ 25 ایکر اراضی کو باؤنڈری وال کے ذریعہ گھیر لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اراضی کب اور کیسے خریدی گئی اس کی تفصیلات عوام میں پیش کی جائے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کانگریس قائدین دوبارہ فارم ہاؤز کے پاس پہنچیں گے اور ضرورت پڑنے پر دھرنا منظم کیا جائے گا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے ٹی آر کی بے قاعدگیوں کو کانگریس پارٹی بے نقاب کرے گی ۔