بدعنوانیوں میں ملوث افراد کا دوسروں کو ایمانداری کا درس مضحکہ خیز
حیدرآباد۔ 31 جنوری (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر قائد اور سابق رکن اسمبلی مل ریڈی رنگاریڈی نے کے ٹی آر کی جانب سے نو منتخب کارپوریٹرس اور کونسلرس کو کرپشن سے دور رہنے کے مشورے کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ کے ٹی آر خود اپنے اطراف کرپٹ اور بدعنوان ارکان اسمبلی کو رکھے ہوئے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے رنگاریڈی نے کہا کہ بلدیات میں کامیابی حاصل کرنے والے کارپوریٹرس اور کونسلرس کے اجلاس میں کے ٹی آر نے بہتر عوامی خدمات کی ہدایت دیتے ہوئے کرپشن سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت خود بدعنوانیوں میں ملوث ہے اور کے ٹی آر کے اطراف کرپٹ ارکان اسمبلی کا گھیرا ہے۔ کے ٹی راما رائو بدعنوانیوں میں ملوث عوامی نمائندوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دھاندلیوں کے ذریعہ بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس نے کامیابی حاصل کی۔ کئی میونسپلٹیز میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود ٹی آر ایس نے باغی امیدواروں یا پھر اپوزیشن کے ارکان کو لالچ دے کر صدرنشین کے عہدے پر قبضہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آدی بٹلا، پیدا عنبرپیٹ میں کانگریس کے منتخب ارکان کو انحراف کے ذریعہ ٹی آر ایس میں شامل کیا گیا اور انہیں میئر اور چیرپرسن کے عہدوں پر فائز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف رائے دہی بلکہ میئر اور صدرنشین کے انتخاب کے موقع پر قواعد کی خلاف ورزی کی گئی۔ الیکشن کمیشن کے قواعد کو نظرانداز کرتے ہوئے لمحہ آخر میں ایکس افیشیو ارکان کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے قاعدگیوں کے ذریعہ 130 میں 120 میونسپلٹیز پر کامیابی کا دعوی مضحکہ خیز ہے۔ اگر دھاندلیاں مزید کی جاتی تو تمام 130 پر کامیابی ممکن تھی۔ ارکان اسمبلی اور وزراء نے دھمکیوں کے ذریعہ دیگر پارٹیوں کے امیدواروں کو مقابلے سے دستبردار کرایا۔ انہوں نے کے ٹی آر سے سوال کیا کہ بے قاعدگیوں میں ملوث وزراء کے خلاف کیا کارروائی کریں گے۔ رنگاریڈی نے کہا کہ عوام برسر اقتدار پارٹی کی دھاندلیوں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور وہ آئندہ انتخابات میں مناسب سبق سکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس سے عوامی ناراضگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چیف منسٹرکے انتخابی حلقے گجویل اور کے ٹی آر کے اسمبلی حلقے سرسلہ میں باغی امیدواروں نے بڑی تعداد میں کامیابی حاصل کی۔ گجویل میں آزاد امیدوار کو صدرنشین کے عہدے پر منتخب کرنا پڑا۔ کے ٹی آر نے باغیوں کو پارٹی میں شامل نہ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن نتائج کے فوری بعد باغیوں کو سمجھا مناکر نہ صرف ٹی آر ایس میں واپس لیا گیا بلکہ انہیں عہدوں پر فائم کیا گیا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر آزادانہ انتخابات کے انعقاد میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔ رنگاریڈی نے کہا کہ الیکشن کمشنر ناگی ریڈی عہدے پر برقراری کے حق سے محروم ہوچکے ہیں۔ کیوں کہ انہوں نے قواعد سے زیادہ ٹی آر ایس کی ہدایات پر عمل کیا ہے۔