کے کویتا کے کارکنوں کارکن پارلیمنٹ کے مکان پر حملہ، وزیراعظم کی مذمت

   


ہلدی کسانوں کی بی جے پی میں شمولیت جاری ۔پارٹی اس سلسلہ میں قانونی کارروائی کرے گی

نظام آباد۔/18 نومبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) رکن پارلیمنٹ نظام آباد ڈی اروند نے ان کی قیامگاہ پر ٹی آر ایس کارکنوں کی جانب سے کئے گئے حملہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کے کویتا کے کارکنوں نے نہ صرف ان کی قیامگاہ بلکہ ان کی 75 سالہ ضعیف والدہ اور وہاں موجود خواتین پر بھی حملہ کیا۔ مسٹر اروند نے کہا کہ کے سی آر نے خود اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ بی جے پی کے قائدین کویتا سے ربط میں ہیں تو کیوںکے سی آر کے مکان پر حملہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت حملہ کیا گیا تھا اس وقت میری ضعیف والدہ اور خواتین گھر میں موجود تھیں ، گھر پر حملہ کرتے ہوئے مورتیوں کو اور فرنیچر کو نقصان پہنچایا ہے۔ کویتا کی اس حرکت سے یہ واضح ہورہا ہے کہ فون پر بات چیت کا الزام حقیقت ہے اس پر تحقیق ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے کویتا ان کے خلاف مقابلہ کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ 2024 میں کویتا کے خلاف پھر ایک مرتبہ مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں اور کیسس کے بارے میں کہا کہ جن ہلدی کسانوں کی بات کی جارہی ہے ان میں سے بیشتر کسان بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ ان پر ہوئے حملہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے واضح اشارہ دیا ہے اور حملے کے خلاف پارٹی پولیس میں بھی شکایت کرے گی۔