مرکز کا فیصلہ غیر جمہوری، سینئر قائد مدھو کا ردعمل
حیدرآباد۔5 ۔ اگست (سیاست نیوز) سی پی ایم کے سینئر قائد ایم مدھو نے جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کی برخواستگی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اس سلسلہ میں راجیہ سبھا میں بل کی پیشکشی کو سیکولر جمہوریت کو سر بازار نیلام کرنے کے مترادف قرار دیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مدھو نے کہا کہ ملک میں مختلف مذاہب ، علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد مل کر ایک وفاق کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن بی جے پی نے ملک کے اتحاد پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام نے ہندوستان میں برقرار رہنے کا فیصلہ کیا لیکن خصوصی موقف کی برخواستگی ان کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پارلیمنٹ میں اکثریت کی بنیاد پر اس طرح کے فیصلہ کر رہی ہے۔ خصوصی موقف کی برخواستگی پر اقلیتیں اور ملک کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے عوام این ڈی اے حکومت سے ناراض ہیں ۔ انہوں نے مرکز کے فیصلہ کو غیر جمہوری قرار دیا اور کہا کہ دستور کو بے خاطر کرتے ہوئے بی جے پی اس طرح کے متنازعہ فیصلے کر رہی ہے۔ مدھو نے کہا کہ 7 اگست کو ملک بھر میں بائیں بازو کی جماعتیں دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر احتجاج منظم کرے گی۔ بی جے پی کا حقیقی چہرہ عوام میں بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی عوام کے جذبات کو مجروح کرتے ہوئے انہیں تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پولیس کے ذریعہ اقتدار چلانا چاہتی ہے جس کا واضح ثبوت آرٹیکل 370 کی برخواستگی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی برخواستگی کا بل انتہائی بدبختانہ ہے۔ مدھو نے کہا کہ بی جے پی اپنے ایجنڈہ پر عمل آوری کا آغاز کرچکی ہے ۔
