ک370 کی منسوخی سے کشمیر میں ترقی کی راہ ہموار

   

Ferty9 Clinic

بی جے پی ارکان پارلیمنٹ ڈی اروند اور بی سنجے کا ردعمل، کانگریس پر تنقید
حیدرآباد۔5 ۔ اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ کے بی جے پی ارکان لوک سبھا ڈی اروند اور بی سنجے نے جموں و کشمیر کے خصوصی موقف سے متعلق دستوری ترمیم 370 کی برخواستگی اور ریاست کی تقسیم کا خیرمقدم کیا ہے ۔ دونوں ارکان نے مرکز کے فیصلہ کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق میں کیا گیا ہے۔ رکن پارلیمنٹ نظام آباد ڈی اروند نے نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مرکز کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دستور کی دفعہ 370 کی برخواستگی بچپن سے ان کا خواب رہا ہے اور اس فیصلہ پر لوک سبھا میں بل کے حق میں ووٹ دینے کا موقع وہ اپنے لئے خوش قسمتی تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 370 کی برخواستگی سے جموں و کشمیر کی ترقی میں تیزی آئے گی اور کئی نئی صنعتیں قائم ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے کنیا کماری تک اس فیصلہ پر عوام جشن منارہے ہیں۔ اروند نے کہا کہ شاما پرساد مکرجی اور سینکڑوں فوجی جوانوں کی آتما کو شانتی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ تسلیم نہ کرنے والے ٹی آر ایس اور مجلس کے قائدین کے منہ پر یہ طمانچہ ہے۔ گزشتہ 70 برسوں میں کانگریس کے نااہل وزرائے اعظم کے سبب کشمیر میں مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ پارٹی کے ایک اور رکن پارلیمنٹ کریم نگر بی سنجے نے کہا کہ ملک کے عوام آج اطمینان کے ساتھ جشن منارہے ہیں۔ جن سنگھ کے بانی شاما پرساد مکرجی کا خواب آج پورا ہوا ہے جنہوں نے کہا تھا کہ ایک ملک ایک دستور ہونا چاہئے۔ انتخابی منشور میں بی جے پی نے دستور کی دفعہ 370 منسوخ کرنے کا وعدہ کیا تھا جسے نریندر مودی اور امیت شاہ نے پورا کر کے دکھایا ہے۔ سنجے نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور یہ کسی کی جاگیر نہیں۔