گائے کی حفاظت کے نام پر انسان کو مارنا کس مذہب میں لکھا ہے؟

   

یہ قاتل پوری دنیا میں ہندو مذہب کو بدنام کر رہے ہیں:عآپ قائدسنجے سنگھ

نئی دہلی : ہریانہ کے چرخی دادری میں گائے کا گوشت کھانے کے شبہ میں ایک مزدور کے قتل کا معاملہ گرم ہے اورگوشہ سے اس کی مذمت کی جارہی ہے۔ اب اس معاملے پر عام آدمی پارٹی قائد اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ سخت ناراض ہیں۔ انہوں نے سوالیہ لہجے میں پوچھا کہ گائے کی حفاظت کے نام پر انسان کو مارنا کس مذہب میں لکھا ہے؟عآپ رہنما سنجے سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ یہ قاتل پوری دنیا میں ہندو مذہب کو بدنام کر رہے ہیں۔ ہریانہ میں گائے کے گوشت کے نام پر ایک غریب مسلمان مزدور کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔ گائے کی حفاظت کے نام پر انسان کو مارنا کس ہندو مذہب میں لکھا ہے؟واضح رہے کہ ہریانہ کے چرخی دادری ضلع میں گائے کے محافظوں کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر گائے کا گوشت کھانے کے شبہ میں ایک مہاجر مزدور کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا۔ ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے شخص کو 27 اگست کو قتل کیا گیا تھا۔درج مقدمے کی بنیاد پر افسر نے بتایا کہ گائے کا گوشت کھانے کے شبہ میں ملزم نے اس شخص کو پلاسٹک کی خالی بوتلیں بیچنے کے بہانے ایک دکان پر بلایا اور وہاں اس کی بے دردی سے پٹائی کی جس کی وجہ سے وہ جان کی بازی ہار گیا۔ جبکہ ایک شخص بری طرح زخمی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ متوفی اپنی روزی کمانے کے لیے اسکریپ کا کام کرتا تھا۔پولیس نے اس معاملے میں 7 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ دو نابالغ بتائے جاتے ہیں۔ پولیس اس معاملے کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے۔ ساتھ ہی ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نے اس واقعہ کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔