گانجہ اسمگلرس کے حملہ میں زخمی خاتون کانسٹبل بالآخرزندگی کی جنگ ہارگئیں

   

سرکاری اعزازات کے ساتھ آخری رسومات‘ ریاستی وزیرجوپلی کرشنا رائو‘کویتا ودیگرکا اظہار تعزیت

نظام آباد: یکم؍ فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) گانجہ اسمگلروں کے کار سے ٹکر کہ حملے میں شدید زخمی ہونے والی خاتون ایکسائز کانسٹیبل گاجولا سومیا (25) بالآخر موت سے لڑتے ہوئے ہار گئیں، یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ منشیات کے مجرمانہ نیٹ ورک اور قانون کی پاسدار خاکی وردی کے درمیان ایک غیر مساوی اور المناک تصادم کی علامت بن گیا ہے، جس نے سماج کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ چند کلو گانجہ کی خاطر بین الریاستی اسمگلر گروہ نے انسانیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے ایک فرض شناس جوان کی جان لے لی۔تفصیلات کے مطابق ضلع کے میسرا منڈل سے تعلق رکھنے والی سومیا، غریب والدین سائیلو اور چندرکلا کی اکلوتی دختر تھیں، جنہوں نے ڈگری کی تکمیل کے فوراً بعد 2024 میں پہلی ہی کوشش میں ایکسائز کانسٹیبل کی ملازمت حاصل کی اور ایس آئی بننے کا خواب آنکھوں میں بسائے محنت جاری رکھی۔ ایک ہفتہ قبل 23 جنوری کو ایکسائز سی آئی کی قیادت میں ٹیم کے ہمراہ نظام آباد کے مضافاتی علاقہ مادھو نگر میں گاڑیوں کی جانچ کے دوران گانجہ سے بھری ایک مشتبہ کار کو روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم اسمگلروں نے گاڑی نہ روکتے ہوئے سومیا کو بے رحمی سے ٹکر ماردی اور فرار ہونے کی کوشش کی، جس میں وہ شدید زخمی ہوگئیں۔زخمی سومیا کو ابتدا میں نظام آباد کے ایک خانگی اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں سرجری کے دوران ایک گردہ نکالنا پڑا، بعد ازاں بہتر علاج کے لیے حیدرآباد کے نیمس اسپتال منتقل کیا گیا، حکومت نے علاج کے لیے 10 لاکھ روپے کی امداد منظور کی، وزرا اور اعلیٰ حکام نے عیادت بھی کی، تاہم وہ ہفتہ کی رات زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئیں۔ ان کی موت سے اہل خانہ، رشتہ داروں اور محکمہ ایکسائز میں شدید غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس واقعہ پر وزیر اکسائز جو پلی کرشنا رائو ، حکومت اڈوائیزر پی سدرشن ریڈی ، ضلع کلکٹر نظا م آباد ایلا ترپاٹھی ، پولیس کمشنر پی سائی چیتنیا ، تلنگانہ جاگروتی کی صدر کے کویتا کے علاوہ دیگر نے بھی اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے افراد خاندان سے اظہار تعزیت کیا ۔ آخری رسومات ریاستی وزیر جو پلی کرشنا رائو ، گورنمنٹ اڈوائیزر پی سدرشن ریڈی ، ضلع کلکٹر ایلا تر پاٹھی ، پولیس کمشنر سائی چیتنیا ، اکسائز ڈپٹی کمشنر اومی ریڈی ، اکسائز سپرنٹنڈنٹ ملا ریڈی کے علاوہ محکمہ اکسائز کے عہدیدار ، دیہاتی بڑے پیمانے پر شرکت کی ۔ جبکہ ان کی آخری رسومات آبائی گاؤں میں سرکاری اعزازات کے ساتھ ادا کی گئی۔ یہ واقعہ منشیات کی لعنت کے خلاف سخت کارروائی کی ناگزیر ضرورت پر ایک کڑا سوال چھوڑ گیاہے ۔