گاندھی بھون میں کانگریس کے مسلم قائدین کا احتجاج، ریونت ریڈی کا پتلہ نذرآتش

   

پرانے شہر میں غیر اقلیتی امیدواروں کے اعلان پر ناراضگی، اقلیتوں کی نمائندگی میں اضافہ کا مطالبہ

حیدرآباد۔/15اکٹوبر، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی سے وابستہ اقلیتی قائدین اور کارکنوں نے امیدواروں کی پہلی فہرست میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی اور پرانے شہر کے مسلم اکثریتی اسمبلی حلقہ جات میں غیر اقلیتی امیدواروں کے اعلان پر احتجاج منظم کیا۔ چندرائن گٹہ، یاقوت پورہ اور بہادر پورہ اسمبلی حلقہ جات میں غیر اقلیتی امیدواروں کے اعلان سے ناراض پرانے شہر کے قائدین نے گاندھی بھون پہنچ کر احتجاج کیا اور ریونت ریڈی کا علامتی پتلہ نذرآتش کیا گیا۔ پلے کارڈز تھامے ہوئے کانگریس قائدین اور کارکنوں نے مجلس سے خفیہ مفاہمت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پرانے شہر کے اسمبلی حلقہ جات میں مجلسی امیدواروں کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے کیلئے غیر اقلیتی امیدوار کھڑا کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے نائب صدر پردیش کانگریس ڈاکٹر ملوروی کے گھیراؤ کی کوشش کی۔ احتجاجی قائدین نے انتباہ دیا کہ اگر یاقوت پورہ ، چندرائن گٹہ اور بہادر پورہ کے امیدواروں کو تبدیل نہیں کیا گیا تو احتجاج میں شدت پیدا کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں سکریٹری اے آئی سی سی منصور علی خاں اور الیکشن کمیٹی کے نمائندوں سے شکایت کی گئی۔ میناکشی نٹراجن اور صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی سے نمائندگی کا فیصلہ کیا گیا۔ کانگریس نے نامپلی، ملک پیٹ اور کاروان سے مسلم امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا ہے جبکہ چارمینار اسمبلی حلقہ سے امیدوار کے نام کا اعلان ابھی باقی ہے۔ ملک پیٹ اسمبلی حلقہ سے غیر معروف شخص کو ٹکٹ دینے کی شکایت کی گئی ہے اور مقامی قائدین کا الزام ہے کہ بھاری رقم حاصل کرتے ہوئے ٹکٹ دیا گیا۔ اب جبکہ پرچہ جات نامزدگی کے ادخال کا 3 نومبر کو آغاز ہوگا لہذا پرانے شہر کے کانگریس قائدین نے امیدواروں میں تبدیلی کی مانگ کی۔ سابق میں بہادر پورہ، چارمینار، یاقوت پورہ اور چندرائن گٹہ اسمبلی حلقہ جات میں مسلم قائدین کو ٹکٹ دیا جاچکا ہے۔ اسی دوران صدر حیدرآباد ضلع کانگریس کمیٹی سمیر ولی اللہ نے احتجاجیوں کو تیقن دیا کہ وہ اس مسئلہ پر پارٹی ہائی کمان اور صدر پردیش کانگریس سے نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہائی کمان چندرائن گٹہ اور بہادر پورہ کے امیدواروں میں تبدیلی کرے گا۔ واضح رہے کہ کانگریس کی جانب سے اقلیتوں سے ہمدردی پر عام مسلمانوں کا یہ احساس ہے کہ ناکامی والے اسمبلی حلقہ جات کے بجائے اضلاع میں جیتنے کے حلقہ جات سے مسلمانوں کو نمائندگی کیوں نہیں دی جاتی۔ کانگریس پارٹی دوسری فہرست میں جوبلی ہلز، کاماریڈی، نظام آباد اور محبوب نگر میں مسلم امیدواروں کے نام کا اعلان کرسکتی ہے۔