سمیر ولی اللہ ، نظام الدین اور دوسروں کی گرفتاری،چیف منسٹر پر غیر انسانی رویہ اختیار کرنے کا الزام
حیدرآباد۔21 ۔ اکٹوبر (سیاست نیوز) کانگریس قائدین بشمول حیدرآباد سٹی کانگریس مینارٹیز ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین سمیر ولی اللہ ، پردیش کانگریس کے ترجمان سید نظام الدین ، پردیش کانگریس کے سکریٹری ساجد شریف ، سی سنتوش اور دیگر قائدین کو اس وقت گرفتار کیا گیا جبکہ انہوں نے پرگتی بھون کا گھیراؤ کرنے کیلئے گاندھی بھون سے روانگی کی کوشش کی۔ پولیس نے گاندھی بھون کے اطراف سخت سیکوریٹی انتظامات کرتے ہوئے قائدین کو حراست میں لے لیا۔ اس موقع پر چیف منسٹر کا علامتی پتلا نذر آتش کیا گیا ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کانگریس قائدین نے کہا کہ چیف منسٹر کے ڈکٹیٹرشپ کے خلاف لڑائی کا آغاز ہوچکا ہے۔ پولیس کے سخت انتظامات کے باوجود کانگریس قائدین اور کارکن کسی طرح گاندھی بھون پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ۔ میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین سمیر ولی اللہ نے چیف منسٹر کے رویہ کی مذمت کی اور کہا کہ وہ ملازمین کے مسائل کے سلسلہ میں غیر انسانی رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ ملازمین کی تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں جس کے سبب وہ معاشی پریشانیوں کا شکار ہیں۔ آر ٹی سی کے نقصانات کیلئے حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو احتجاجی ملازمین کے ساتھ بات چیت کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک 9 ملازمین قلب پر حملہ کے باعث فوت ہوگئے جبکہ دو ملازمین نے خودکشی کرلی لیکن چیف منسٹر کو انسانی جانوں کے ضائع ہونے کا کوئی غم نہیں ہیں۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین نوعیت اختیار کرے گی۔ پردیش کانگریس کے ترجمان سید نظام الدین نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت ہائی کورٹ میں آر ٹی سی ہڑتال کو غیر قانونی ثابت کر رہی ہے۔ متبادل انتظامات کا حوالہ دیتے ہوئے ہڑتال کی اہمیت کو گھٹایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو 48,000 ملازمین کو برطرف کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے مانگ کی کہ وہ یونین کو فوری بات چیت کے لئے طلب کریں۔