مدناپور (مغربی بنگال ) : بی جے پی کو اپنے گھٹیا سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے انتشارپسند سیاست پر عمل پیرا ہونے کی مورد الزام ٹھہراتے ہوئے چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے پیر کو کہا کہ یہ ریاست جہاں تمام برادریاں بھائی چارے سے رہتی آئی ہیں ، کبھی گاندھی جی کے قاتلوں کے آگے اپنا سر نہیں جھکائے گی ۔ ممتا بنرجی نے مغربی مدناپور میں ایک ریالی سے خطاب میں کہاکہ مرکز کی بی جے پی حکومت غرور اور تکبر کا شکار ہوچکی ہے اور اُن پرکسانوں کی زبوں حالی کا بھی کوئی اثر نہیں ہورہا ہے ۔ چنانچہ کسان نئے زرعی قوانین کے خلاف طویل احتجاج پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اُنھوں نے زور دیا کہ مرکزی حکومت کو عوام دشمن زرعی قوانین سے فوری دستبردار ہونا پڑے گا یا پھر اُسے سبکدوش ہوجانا چاہئے ۔ شعلہ بیان ٹی ایم سی سربراہ نے دعویٰ کیاکہ وہ بی جے پی کی غلط حکمرانی کو سہنے کے بجائے جیل جانا پسند کرے گی ۔ ’’ہم بنگالی اور غیربنگالی سیاست پر یقین نہیں رکھتے ہیں ، دونوں ہمارے بھائی اور بہنیں ہیں ۔ ہم بی جے پی کی طرح ہندو ۔ مسلم سیاست پر بھی یقین نہیں رکھتے ۔ اس ریاست کی طویل تاریخ ہے کہ یہاں تمام برادریاں امن و بھائی چارہ سے رہتے ہیں ، ہم اسے کسی قیمت نہیں کھونا چاہیں گے ‘‘۔ بی جے پی کو پھر ایک بار بیرون ریاست کے افراد پر مبنی پارٹی قرار دیتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہاکہ وہ کبھی زعفرانی کیمپ کو بنگال کا کنٹرول حاصل کرنے نہیں دیں گی ۔ اُنھوں نے ریاستی عوام سے اپیل کی کہ اس طرح کی کوئی بھی کوشش کے خلاف مزاحمت کریں۔ چیف منسٹر نے دہرایا کہ اگر بیرون ریاست سے غنڈے ہماری ریاست کو آئیں اور عوام کو دہشت زدہ کریں تو آپ تمام کو اُن کے خلاف متحد لڑائی لڑنا چاہئے ۔ ہم امن پر یقین رکھتے ہیں ۔ ہم اُنھیں یہاں من مانی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ زعفرانی پارٹی اُن کی حکومت اور اُس کے بہبودی پروگراموں کو بدنام کرنے اور عوام کے سامنے اُن کی شبیہ بگاڑنے کی کوشش کررہی ہے ۔ ہم کتنا بھی ترقیاتی کام کرلیں ، بی جے پی ہمیشہ ہمیں بدنام کرنے کوشاں رہتی ہے لیکن رافیل اسکام کا کیا ہوا ؟ پی ایم کیرس فنڈس کا کیا ہوا ؟ مرکز کو چاہئے کہ پی ایم کیرس فنڈس کو ابھی تک وصول شدہ رقم کے تعلق سے وائیٹ پیپر جاری کرے ۔ ممتا بنرجی نے الزام عائد کیا کہ زعفرانی پارٹی اپنے اپوزیشن قائدین کو دھمکاکر اُنھیں جیل بھیجتی ہے ۔ ’’میں جیل جانے سے خوفزدہ نہیں ہوں۔ بلکہ میں بی جے پی کی غلط حکمرانی کو قبول کرکے جینے کے بجائے جیل جانے کو ترجیح دوں گی ‘‘۔
