تاحال کوئی اہم سراغ نہیںمل پایا ، 7 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا
حیدرآباد : /17 اگست (سیاست نیوز) گاندھی ہاسپٹل میں دو خواتین پر اجتماعی عصمت ریزی کا کیس پولیس کیلئے درد سر بن گیا ہے اور اس کیس کی تحقیقات میں کوئی ٹھوس سراغ ہاتھ نہیں لگا ہے ۔ پولیس نے اس معاملہ میں تقریباً 7 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور پولیس کی خصوصی ٹیموں کے ذریعہ تحقیقات کی جارہی ہے ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ محبوب نگر سے تعلق رکھنے والی دو بہنوں نے الزام عائد کیا تھا کہ گاندھی ہاسپٹل کو علاج کیلئے پہنچنے پر بعض افراد نے انہیں بے ہوش کرکے ان کی عصمت ریزی کی ہے ۔ اس الزام کے بعد پولیس چلکل گوڑہ نے ایک ایف آئی آر جاری کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا ۔ متاثرہ خواتین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ گاندھی ہاسپٹل علاج کیلئے پہنچنے پر بعض افراد نے ان پر کلوروفام کا استعمال کرتے ہوئے انہیں بے ہوش کیا اور ان کی عصمت ریزی کی ۔ پولیس نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے اس معاملہ میں بعص افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی لیکن تحقیقاتی عہدیداروں کو اس سلسلہ میں کوئی سراغ دستیاب نہیں ہوا ہے ۔ دوسری طرف متاثرہ خواتین میں سے صرف ایک خاتون نے پولیس سے شکایت درج کروائی ہے اور اس کا سی سی ایس کے بھروسہ سنٹر میں بیان قلمبند کیا گیا ہے جبکہ دوسری متاثرہ خاتون کا ہنوز پتہ نہ چل سکا ۔ معلوم ہوا ہے کہ تحقیقاتی عہدیداروں نے متاثرہ خاتون کے طبی معائنے بھی کئے ہیں لیکن خون کے معائنوں سے کلوروفام کے استعمال یا کسی بھی کیمیکل کا کوئی ثبوت نہیں حاصل ہوا ہے ۔ جبکہ خاتون کی جانب سے دیئے گئے مختلف بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے جس سے پولیس کی تحقیقات میں دشواریاں پیش آرہی ہیں ۔ اجتماعی عصمت ریزی کے کیس میں پولیس کو دوسری متاثرہ خاتون کا پتہ لگانا چیلنج بن گیا ہے ۔ پولیس کی جانب سے اس کیس کے مشتبہ افراد بشمول لیاب ٹیکنیشین ، سکیورٹی گارڈ اور دیگر افراد کی تفتیش کی جارہی ہے ۔ واضح رہے کہ محبوب نگر سے تعلق رکھنے والی دو بہنیں نرسملو نامی شخص کے گردے کے علاج کیلئے گاندھی ہاسپٹل /4 اگست کو پہنچی تھیں اور /15 اگست کی شب کو یہ واقعہ پیش آیا اور متاثرہ خاتون گاندھی ہاسپٹل کے آؤٹ پیشنٹ وارڈ کے قریب برہنہ حالت میں پائی گئی ۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیدار اس کیس کی تحقیقات میں سرگرم ہیں اور وزیر داخلہ جناب محمود علی نے بھی متعلقہ پولیس عہدیداروں سے اس کیس کا جائزہ لیا ہے۔B
