کنٹراکٹر کے خلاف کارروائی، حکومت سے جواب طلبی
حیدرآباد: تلنگانہ ہائیکورٹ نے گاندھی ہاسپٹل میں غذا سربراہ کرنے والے کنٹراکٹر کی جانب سے غیر معیاری غذا کی سربراہی پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ فوڈ سپلائر کی جانب سے گاندھی ہاسپٹل میں انتہائی ناقص غذا کی سربراہی کے بارے میں کئی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے کنٹراکٹر کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کی ۔ کنٹراکٹر نے اس کے خلاف کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے علحدہ درخواست داخل کی ہے۔ ڈیویژن بنچ نے کنٹراکٹر کے وکیل سے کہا کہ بارہا توجہ دہانی کے باوجود غذا کے معیار میں بہتری کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ مریضوں کو سربراہ کئے جانے والی غذا میں دھاگہ اور باریک لکڑیاں پائی جارہی ہیں۔ عدالت نے حیرت کا اظہار کیا کہ گاندھی ہاسپٹل جیسے اہم دواخانہ کی سربراہی میں کنٹراکٹر کی کس قدر لاپرواہی ہے۔ کنٹراکٹر کو نیلوفر ہاسپٹل میں خدمات سے علحدہ کردیا گیا تھا۔ گاندھی اور چیسٹ ہاسپٹل میں یہی کنٹراکٹر غذا سربراہ کرتا ہے۔ عدالت نے حکومت سے سوال کیا کہ گاندھی ہاسپٹل میں ناقص سربراہی پر کیا کارروائی کی گئی ۔ کنٹراکٹر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ غذا کے معیار میں اضافہ کیا گیا ہے جس پر عدالت نے اس سلسلہ میں ثبوت پیش کرنے کی ہدایت دی۔ پیر تک عدالت نے ثبوت پیش کرنے کے لئے وقت مانگا گیا۔ عدالت نے کنٹراکٹر کو کوئی بھی ریلیز دینے سے انکار کیا اور آئندہ سماعت پیر کو مقرر کردی ۔