قانون حق آگہی کے تحت اموات اور آکسیجن کی حقیقت معلوم کرنے تنظیموں کا منصوبہ
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں کورونا وائرس سے فوت ہونے والوں کی حقیقی تعداد چھپائی جا رہی ہے اور جو لوگ دواخانوں میں فوت ہورہے ہیں ان کی موت کی وجوہات بھی مختلف بتائی جانے لگی ہیں ۔ تلنگانہ میں کورونا وائرس کے لئے مخصوص دواخانوں میں ہونے والی اموات کے سلسلہ میں بھی شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے اور کہا جار ہاہے کہ دواخانہ کے عملہ کو اس بات کی تاکید کی جا رہی ہے کہ وہ دواخانہ میں ہونے والی اموات کی تفصیلات کا انکشاف نہ کریں۔ شہرحیدرآباد میں موجود ایک سرکردہ خانگی دواخانہ میں ہونے والی اموات کے سلسلہ میں دواخانہ میں خدمات انجام دینے والے عملہ سے بات کرنے پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ یومیہ کم از کم 10اموات واقع ہورہی ہیں اور اسی طرح ایک اور معروف دواخانہ میں خدمات انجام دینے والے طبی عملہ نے بتایا کہ شہر میں موجود اس دواخانہ کی تین شاخوں میں زائد از 35 اموات ہورہی ہیں اور دیگر دواخانوں میں بھی یہی صورتحا ل ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ کے سرکاری دواخانوں میں ہونے والی اموات کی تعداد کو مخفی رکھنے کیلئے مسلسل اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ گاندھی ہاسپٹل میں اب ایک بھی آکسیجن بستر موجود نہیں ہے کیونکہ تمام بستروں پر مریض زیر علاج ہیں اور نئے مریضوں کو شریک کرنے کیلئے کوئی جگہ موجود نہیں ہے۔ اسی طرح دیگر سرکاری دواخانوں کی حالت بھی ایسی ہی ہے اگر چیکہ دواخانہ میں بستر موجود ہیں لیکن آکسیجن بستر موجود نہیں ہیں۔ کنگ کوٹھی دواخانہ ‘ تلنگانہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے علاوہ چیسٹ ہاسپٹل و دیگر دواخانوں میں بھی آکسیجن بستر میسر نہیں آرہے ہیں ۔ سرکاری و خانگی دواخانوں میں ہونے والی اموات کے حقیقی تعداد سے آگہی کے لئے جلد ہی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور محکمہ بلدی نظم و نسق کے عہدیداروں کو قانون حق آگہی کے تحت ایک درخواست داخل کرتے ہوئے گذشتہ ایک ماہ کے دوران ہونے والی اموات اور متوفی کے رشتہ داروں کی جانب سے داخل کی جانے والی صداقتنامہ ٔ موت کی درخواستوں کی تعداد حاصل کرنے کی منصوبہ بندی تیار کی جار ہی ہے اور اس سلسلہ میں کئی تنظیموں کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں تعداد کو چھپانے کی کوشش اور کورونا وائرس کے معائنوں کی تفصیلات کے لئے جلد عدالت سے رجو ع ہونے پر غور کیا جا رہاہے۔