گاندھی ہاسپٹل کورونا مریضوں سے بھرگیا، مزید بستروں کی کوئی گنجائش نہیں

   

میڈیکل عملہ بھی علاج کرتے ہوئے تھک گیا، دیگر سرکاری دواخانوں میں مریضوں کے علاج پر غور

حیدرآباد۔7جون(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے مخصوص گاندھی ہاسپٹل میں بستر نہیں ہیں۔ گاندھی ہاسپٹل کے ذرائع نے اس بات کی توثیق کردی ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے مخصوص دواخانہ میں اب مزید مریضوں کو شریک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی کیونکہ مریضوں کی تعداد میں ہورہے اضافہ کے سبب حکومت کے دواخانہ میں مریضوں کو شریک کیا جانا مشکل ہونے لگا ہے جو کہ عوام کیلئے کافی تکلیف دہ ثابت ہوسکتا ہے۔گاندھی ہاسپٹل میں جہاں دواخانہ کے آغاز کے ساتھ 1600بستروں کی گنجائش فراہم کی گئی تھی اور گذشتہ دنوں مزید 350 بستروں کے اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ابھی یہ تیاریاں مکمل نہیں ہوپائی ہیں اور دواخانہ میں بستروں کی کمی واقع ہونے لگی ہے۔ ریاستی حکومت کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ6 جون کے میڈیکل بلیٹن کے مطابق ریاست تلنگانہ میں تاحال 3ہزار 496 کورونا وائرس کے مریضوں کی توثیق ہوئی ہے جن میں اب بھی 1663 مریض کورونا وائرس سے متاثر دواخانوں میں زیر علاج ہیں ۔اب تک ہونے والی اموات کے متعلق حکومت نے 123 کی توثیق کی ہے جبکہ 1710 مریضوں کو علاج کے بعد ڈسچارج کئے جانے کی رپورٹ دی گئی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے دواخانہ میں اب بستروں کی گنجائش نہ ہونے کے سبب حکومت کی جانب سے معمولی علامات کے حامل مریضوں کو قبل از وقت گھر بھیج دینے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں۔ حکومت تلنگانہ نے ریاست میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کیلئے گاندھی ہاسپٹل میں جس عملہ کو تعینات کیا ہے وہ بھی اب تھک چکا ہے کیونکہ مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے سببانہیں بھی کافی محنت کرنی پڑرہی ہے ۔ گاندھی ہاسپٹل میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرس اور نیم طبی عملہ کی خدمات کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ وہ گذشتہ تین ماہ سے مسلسل کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج میں مصروف ہیںاور گذشتہ چند یوم کے دوران اچانک مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ سے وہ بھی تشویش کا شکارہونے لگے ہیں۔ گاندھی ہاسپٹل میں بستروں کی قلت کی صورتحال سے نمٹنے کے سلسلہ میں محکمہ صحت کے عہدیدارو ںکا کہناہے کہ حکومت کی جانب سے دیگر سرکاری دواخانوں میں علاج کی سہولت کی فراہمی پر غور کیا جا رہاہے تاکہ کسی بھی طرح کی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹنے کے اقدامات کئے جاسکیں۔