شیلٹرس کی تعمیر کی ہائی کورٹ کی ہدایت نظر انداز ، این جی اوز کی جانب سے غذا کی فراہمی
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو شہر میں شیلٹرس کی تعمیر کی ہدایت کے باوجود آج تک عمل نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں عثمانیہ ہاسپٹل میں زیر علاج کورونا کے مریضوں کے رشتہ دار سڑکوں پر سونے کیلئے مجبور ہوچکے ہیں۔ آندھراپردیش ہائی کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ شہر کے دواخانوں میں زیر علاج کورونا کے مریضوں کے رشتہ داروں کیلئے رات میں قیام کی سہولت کے تحت نائیٹ شیلٹرس قائم کئے جائیں۔ دیکھا یہ جارہا ہے کہ گاندھی ہاسپٹل میں شریک مریضوں کے سینکڑوں رشتہ دار رات بھر سڑکوں پر گزارنے کیلئے مجبور ہیں۔ اپنے ضروری سامان کے ساتھ وہ سڑکوں پر شب بسری کر رہے ہیں۔ واضح رہے ہے کہ ہائیکورٹ نے 25 اپریل کو مریضوں کے رشتہ داروں اور مائیگرنٹ ورکرس کیلئے نائیٹ شیلٹرس کے قیام کی ہدایت دی تھی۔ کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار نے عدالت کو بتایا تھا کہ 20 شیلٹرس قائم کئے جاچکے ہیں۔ بیگم پیٹ شیلٹر ہوم میں 265 افراد قیام پذیر ہیں۔ شہر کے تمام بڑے سرکاری دواخانوں میں نہ صرف تلنگانہ بلکہ پڑوسی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مریضوں کو شریک کیا گیا ہے ، ان کے ساتھ حیدرآباد آنے والے افراد ہوٹل میں قیام کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے ، لہذا وہ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر شب بسری کرنے لبے ۔ پولیس اور ریلوے حکام نے اجازت نہیں دی جس کے بعد وہ سڑکوں پر آچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سڑکوں پر شب بسری کے نتیجہ میں سرقہ کے واقعات پیش آئے ہیں ان کے پاس موجود رقم اور ضروری سامان کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق صرف گاندھی ہاسپٹل کے اطراف سڑکوں پر 500 سے زائد افراد روزانہ قیام کر رہے ہیں۔ مختلف رضاکارانہ تنظیموں کی جانب سے غذا کا انتظام کیا جارہا ہے ۔