ٹرانسپورٹ دفاتر میں ایجنٹس کی موجودگی، اسکام سے محکمہ کو نقصانات
حیدرآباد: تلنگانہ پولیس نے غیر قانونی طور پر سرکاری محکمہ جات کی آن لائین خدمات سے متعلق اسکام کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن گاڑیوں کے جعلی انشورنس سرٹیفکٹس کی اجرائی سے متعلق اسکام ابھی بھی سرگرم ہیں۔ پولیس نے انشورنس ایجنٹس کے بشمول 11 افراد کو حراست میں لیا تھا اور 1125 جعلی انشورنس سرٹیفکٹس ضبط کئے تھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جعلی سرٹیفکٹس کی اجرائی کا ریاکٹ ابھی بھی سرگرم ہیں اور عوام کو کم فیس پر سرٹیفکٹس جاری کرنے کا لالچ دیا جارہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ آر ٹی اے دفاتر میں اس کام کیلئے ایجنٹس سرگرم ہیں اور وہاں کے مقامی عہدیدار کی سرگرمیوں سے واقف ہونے کے باوجود کارروائی سے قاصر ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ 600 روپئے کی ادائیگی پر آرٹی او سے انشورنس سرٹیفکٹ دیا جاتا ہے ۔ آٹو ڈرائیورس ، ٹو وہیلرس کے مالکین اور اسکول بسیس اور ویان انشورنس سرٹیفکٹس کے لئے ٹرانسپورٹ آفس سے رجوع ہوتے ہیں جہاں وہ ایجنٹس کے رابطہ میں ْبآسانی آجاتے ہیں۔ ایجنٹس کے پاس جعلی انشورنس سرٹیفکٹس پرنٹ کیا ہوا موجود ہوتا ہے جس پر وہ تفصیلات درج کرتے ہوئے حوالے کرتے ہیں۔ ایک دن یا پھر دوسرے دن یہ سرٹیفکٹس جاری کیا جاتا ہے ۔ عوام کا کہنا ہے کہ عہدیداروں کی ملی بھگت سے یہ اسکام جاری ہے جس کے نتیجہ میں محکمہ ٹرانسپورٹ کو بھاری نقصان ہورہا ہے۔ آٹو کے لئے 600 تا 800 ، ٹو وہیلر کے لئے ایک ہزار تا دو ہزار اور کار کے لئے پانچ ہزار روپئے وصول کئے جاتے ہیں۔