گجرات فسادات کس حکومت میں پیش آئے؟

   

سی بی ایس ای کو 12 ویں جماعت کے پرچہ میں سوال کی شمولیت پر افسوس
نئی دہلی : ہندوستان کا سرکردہ تعلیمی ادارہ جو سرکاری امتحانات کا انعقاد عمل میں لاتا ہے، اس نے بارہویں جماعت کے پرچہ میں ایک سوال ’’نامناسب‘‘ شامل ہوجانے پر کارروائی کا وعدہ کیا ہے۔ یہ سوال 2002ء کے گجرات فسادات کے بارے میں ہے۔ سوال میں پوچھا گیا کہ ریاست میں اس وقت کونسی پارٹی برسراقتدار تھی جب قتل و غارت گری کے واقعات پیش آئے۔ بارہویں جماعت کے سوشیولوجی ٹرم1 امتحان کے ایک سوال میں پوچھا گیا کہ 2002ء میں گجرات میں غیرمعمولی نوعیت کا مخالف مسلم تشدد کس حکومت کے دور میں پیش آیا۔ جواب کیلئے چار متبادل دیئے گئے: ’’کانگریس، بی جے پی، ڈیموکریٹک، ریپبلکن‘‘ ۔ سنٹرل بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن یعنی سی بی ایس ای نے ٹوئیٹ کیا کہ اسے غلطی کا اعتراف ہے اور وہ ضروری اصلاح کرے گا۔ 2002ء میں گجرات کے گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس ٹرین کے ایک کوچ کو آگ لگی جس کے بعد پیش آئے فسادات میں زائد از 1000 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کوچ میں ہندو یاتری سوار تھے اور بتایا گیا کہ ان میں سے 59 جھلس کر مر گئے۔ فبروری 2012ء کی ایک رپورٹ میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی (اُس وقت کے چیف منسٹر گجرات) 63 دیگر ملزمین کو قابل قبول ثبوت کے فقدان پر بری کردیا۔