گجرات فسادات کے 20 سال ، برطانوی پارلیمان میں بحث

   

لندن: برطانوی ارکان پارلیمان نے ہندوستانی ریاست گجرات کے مسلم مخالف فسادات میں مارے گئے برطانوی شہریوں کی جسمانی باقیات کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اس بارے میں برطانیہ نے اس سے تاحال کوئی رابطہ نہیں کیا۔ برطانوی پارلیمان میں گزشتہ شب ہندوستانی ریاست گجرات کے مسلم مخالف فسادات کے بیس برس مکمل ہونے پر بحث ہوئی اور ان فسادات میں ہلاک ہونے والے تین برطانوی شہریوں کی جسمانی باقیات کو برطانیہ میں ان کے لواحقین کو واپس کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا۔ فروری 2002ء میں گجرات میں گودھرا کے شہر میں ہندو کار سیوکوں سے بھرے ایک ٹرین کے ڈبے میں آتش زدگی کے بعد بڑے پیمانے پر مسلم مخالف فسادات بھڑک اٹھے تھے، جس میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ایک ہزار افراد قتل کر دیے گئے تھے۔ ہلاک شدگان میں سے بیشتر مسلمان تھے اور بعض غیر سرکاری جائزوں کے مطابق ان فسادات میں تقریباً دو ہزار مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی اس وقت ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اور کئی حلقوں کی جانب سے ان فسادات کو ’دانستہ طور پر قابو میں نہ لانے‘ پر مودی پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ گجرات میں فسادات کے بیس برس مکمل ہونے پر ان واقعات کی یاد میں لیبر پارٹی کی رکن پارلیمان کم لیڈ بیٹر نے دارالعوام میں بحث کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے اس موقع پر ان فسادات میں ہلاک ہونے والے برطانوی شہریوں کی جسمانی باقیات کی واپسی کا مطابہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ برطانیہ کو بھی اس امر کی تفتیش کرنا چاہیے کہ آخر ان ہلاکتوں کے اسباب کیا تھے۔
اٹھائیس فروری 2002ء کو چار برطانوی سیاح جب تاج محل دیکھنے کے بعد واپس لوٹ رہے تھے، تو وہ سفر ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوا تھا۔ ان میں شکیل اور سعید داؤد، ان کا 18 سالہ بھتیجا عمران اور ان کا بچپن کا دوست محمد اصوت شامل تھے۔ ریاست گجرات میں داخل ہونے کے کچھ ہی دیر بعد ان کی جیپ کو ایک سڑک پر روکا گیا تھا۔ ایک ہجوم نے ان کی گاڑی کو گھیر لیا اور ان سے پوچھا گیا تھا کہ ان کا مذہب کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا تھا کہ وہ مسلمان ہیں اور برطانوی شہری بھی، جو چھٹیاں گزارنے بھارت آئے تھے۔ اس کے بعد مشتعل ہجوم نے ان افراد پر تشدد کیا اور شکیل، سعید، محمد اور ان کا ڈرائیور سبھی موقع پر ہی قتل کر دیے گئے تھے۔ اس واقعے میں عمران داؤد معجزانہ طور پر بچ گئے تھے اور آج وہی اس کیس کے عینی گواہ بھی ہیں۔ انہی سے یہ پتا بھی چلا تھا کہ کیسے ہلاک شدگان نے اپنی جانیں بچانے کے لیے منتیں کی تھیں مگر ہندوؤں کے مشتعل ہجوم نے ان کی ایک نہ سنی تھی۔