گجرات فساد کی ترجمان تصاویر انصاری اور پرمار اب دوستی کا عکس

,

   

احمد آباد ۔ 7 ۔ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) گجرات کے 2002 ء کے فسادات ہندوستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دھبہ ہے اور ان فسادات کے دوران میڈیا میں دو ایسی تصاویر منظر عام پر آئیں جو کہ ان فسادات کی ایک شناخت بن گئی جس میں ایک تصویر قطب الدین انصاری کی ہے جو کہ زخمی ہونے کے علاوہ ہاتھوں پر پٹی باندھے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے رحم کی اپیل کرتے نظر آئے تو دوسری جانب ایک اور تصویر اشوک پرمار کی ہے اور تصویر میں وہ سر پر زعفرانی پٹی باندھے ہاتھ میں آہنی سلاخ لئے ہوئے شدت کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ ان کے پیچھے آگ کے شعلے اٹھ رہے ہیں لیکن اب یہ دونوں افراد گجرات میں دوستی اور اتحاد کی نشانی بن چکے ہیں کیونکہ اچوک پرمار نے ایک چپل کی دکان کھولی ہے جس کا نہ صرف نام یکتا چپل گھر ہے بلکہ اس کا افتتاح قطب الدین انصاری نے ہی کیا ہے ۔ 17 برس قبل پرمار جن کی اب عمر 45 سال ہے، انہیں کیمرے میں احمد آباد میں قید کیا تھا اور یہ دونوں گجرات فسادات کی ایک شناخت بنے ہوئے ہیں۔ گجرات فسادات کے دو مختلف چہروں کی ترجمانی کرنے والے پرمار اور انصاری اس وقت دلی دروازہ میں موجود نئی دکان یکتا چپل گھر کی وجہ سے چہرت حاصل کر رہے ہیں۔ پرمار احمد آباد کے فٹ پاتھ پر ایک موچی کا کام کرتے تھے اور جب وہ دسویں جماعت میں تھے، ان کے وا لدین کا سایہ ان کے سر سے اٹھ گیا جس کے بعد انہوں نے تعلیم ترک کرتے ہوئے فٹ پاتھ پر اپنے والد کے کاروبار کو سنبھال لیا ۔

وہ قریبی اسکول کے پاس رات بسر کرتے تھے اور چند برس ایسے ہی انہوں نے گزارے۔ پرمار کی زندگی اس وقت تبدیل ہوئی جب بائیں بازو کے سیاسی لیڈر کلیم صدیقی نے انہیں 2014 ء میں کیرالا منتقل کیا اور سی پی ایم کے لیڈر کیلئے عام انتخابات میں انتخابی مہم چلانے پر لگادیا ۔ سی پی ایم لیڈر پی جئے راجن نے انہیں نہ صرف مالی تعاون دیا بلکہ انہیں ملازمت کی پیشکشی کی لیکن انہوں نے پیشکش مسترد کردی کیونکہ کیرالا میں انہیں مقامی زبان کا مسئلہ درپیش تھا ۔ پرمار نے کہا کہ انہوں نے وہاں زبان کے مسائل کی وجہ سے ملازمت کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے احمد آباد کا رخ کیا اور اپنے سابق کام کو دوبارہ شروع کیا۔ یہاں انہوں نے اپنی چپل کی دکان کھولی اور اس کا افتتاح انصاری کے ہاتھوں کروایا۔ انصاری جو کہ ٹیلرنگ کا کاروبار کرتے ہوئے اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں، انصاری نے اس ضمن میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہیں کافی خوشی ہے کہ پرمار کی ایک زندگی شروع ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ دونوں کا نام 2002 ء کے فسادات میں کسی بھی قسم کے مقدمہ میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ انہیں ان فسادات میں متاثر ہونے والوں میں شامل کیا تھا ۔ دونوں نے فسادات کی وجہ سے ملنے والے معاوضہ سے ایک نئی زندگی شروع کی ہے اور ان کا ماننا ہے کہ 2002 ء کے فسادات کی جو تلخ یادیں ہیں ، وہ اتحاد اور امن کے ذریعہ ہی بھلائی جاسکتی ہے۔