گجرات ہائی کورٹ نے کل ریاست میں مبینہ لو جہاد کے معاملے پر روک لگانے والے گجرات مذہبی آزادی ایکٹ 2021 کے کئ شقوں کے نفاذ پر عبوری روک لگادی ہے ،چیف جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس برین ویشنو کی ڈویژن بنچ نے کل اس سلسلے میں ایک عبوری حکم دیا ہے ،عدالت نے فیصلہ دیا کہ بالغوں کے درمیان آزادانہ رضامندی اور بین مذہبی شادی بغیر کسی لالچ یا دھوکہ دہی کے غیر قانونی تبدیلی کے مقصد کے لیے شادی نہیں کہی جا سکتی ، عدالت نے عبوری حکم 2021 ترمیم کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست کے جواب میں منظور کیا جسے افراد کی پسند اور مذہب کی آزادی کی خلاف ورزی اور افراد کی ذاتی خودمختاری پر حملہ کے طور پر دیکھا گیا تھا۔