گجرات میں اقتدار پر ایل پی جی سلنڈر 500 روپئے میں ملیگا : کانگریس

   

صدر پارٹی کھرگے کا وعدہ ، الیکشن کمیشن پر بی جے پی کا دباؤ ہے، اپوزیشن کا دعویٰ

نئی دہلی : کانگریس نے گجرات کے لوگوں سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ اسمبلی انتخابات میں اکثریت حاصل کرتے ہیں تو وہ ایل پی جی سلنڈر 500 روپے میں دے گی اور کسانوں کے قرضے معاف کرنے کے ساتھ بجلی مفت فراہم کی جائے گی۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ریاستی اسمبلی کے انتخابی شیڈول کا اعلان کرنے کے بعد کہا کہ گجرات کے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں اور ووٹر کانگریس کو واحد آپشن سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کے لوگوں کا کانگریس پر اعتماد بڑھ گیا ہے اور سات کروڑ گجراتی بہنیں اور بھائی تبدیلی کا آپشن صرف کانگریس کو سمجھتے ہیں۔ گجرات پردیش کانگریس بھی ریاست کے لوگوں کے جذبات کے مطابق کام کر رہی ہے اور اس کے لیے اس نے آٹھ وعدوں کا اعلان کیا ہے ۔کھرگے نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ گجرات کانگریس نے حکومت سازی پر عوام کو راحت فراہم کرنے کے لئے جن آٹھ وعدوں کا اعلان کیا ہے ان میں “500 روپے میں ایل پی جی سلنڈر، 300 یونٹ تک بجلی مفت، 10 لاکھ روپے تک کا علاج اور ادویات مفت شامل ہیں۔ کسانوں کے لیے تین لاکھ روپے تک کے قرضوں کی معافی، سرکاری ملازمتوں میں کنٹریکٹ سسٹم بند اور 300 روپے کا بے روزگاری الاؤنس، تین ہزار سرکاری انگلش میڈیم اسکول کھولنے ، کوآپریٹو سوسائٹی میں دودھ پر پانچ روپے فی لیٹر سبسڈی اور کورونا کی وجہ سے جان گنوانے والے تین لاکھ افراد کے لواحقین کو چار لاکھ روپے کا معاوضہ بھی شامل ہے ۔کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر آئینی اداروں کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے دباؤ میں الیکشن کمیشن نے دونوں ریاستوں میں ایک ساتھ انتخابات کا اعلان نہیں کیا، جبکہ انتخابی نتائج ایک ساتھ آنے والے ہیں۔ .کانگریس گجرات کے انچارج رگھو شرما اور پارٹی کے ترجمان پون کھیرا نے جمعرات کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور اسے حکومت کے دباؤ میں کام نہیں کرنا چاہئے ۔ گجرات اور ہماچل اسمبلی انتخابات کے نتائج ایک ہی دن آنے والے ہیں لیکن انتخاب کا اعلان ہماچل کے لیے 14 اکتوبر اور گجرات کے لیے آج کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہونے کے ناطے بتائے کہ کیا اس نے یہ کام حکومت کے دباؤ میں کیا ہے ؟ کمیشن کو ملک کے عوام کو بتانا چاہیے کہ جب انتخابی نتائج ایک ساتھ آنے والے ہیں تو گجرات اور ہماچل میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کے اعلانات کیوں نہیں کیے گئے ۔کانگریس لیڈروں نے کہا کہ گجرات میں 27 سال سے بی جے پی کی حکومت ہے اور اس پر سوال اٹھانا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری پورے ملک کے لیے ہے ، لیکن سوال یہ ہے کہ گاندھی کی ریاست میں بڑی مقدار میں شراب کیوں پکڑی جا رہی ہے۔