گجرات میں جے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پر 3مسلم نوجوان تشدد کا شکار، پولیس کاانکار

   

Ferty9 Clinic

گودھرا،2اگست (سیاست ڈاٹ کام) گجرات کے گودھرا شہر میں تین مسلم نوجوانوں نے الزام لگایا کہ کہ جے شری رام کا نعرہ نہ لگانے کی وجہ سے گذشتہ رات کچھ شرپسندوں نے ان کی پٹائی کی۔حالانکہ اس تعلق سے گودھرا اے ڈیویژن تھانے میں معاملہ درج کرایا گیا ہے لیکن پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ شروعاتی تفتیش میں یہ واضح ہو گیا کہ ان کا یہ الزام غلط ہے ۔گودھرا شہر کے محمدی محلے کے باشندے صدیق عبد السلام (40) نے اس تعلق سے درج ایف آئی آر میں الزام عائد کیا کہ ان کا بیٹا ثمیر(17) اور ان کے گھر کے پاس ہی رہنے والے دو دیگر ساتھی سلمان اور سہیل گذشتہ رات 10:30 بجے موٹرسائیل سے گھومنے گئے تھے۔ اسی دوران ان کے گھر سے تقریباً ایک کلومیٹر دور نامعلوام دو دیگر موٹر سائیکل سواروں نے انھیں روکا اورکہا کہ جے شری رام کا نعرہ لگاؤ۔ منع کرنے پر انھیں زدو کوب کیا۔

ثمیر کے سر میں چوٹ آئی۔ بعد میں شوروغل سن کر بھیڑکے اکٹھا ہونے پر حملہ آور بھاگ گئے ۔ تینوں کا گودھرا سول اسپتال میں علاج کروایا گیا۔ صدیق نے آج یو این آئی کو بتایاکہ مسلمانوں کی اکثریتی آبادی والے گودھرا کے ہندو اکثریتی علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا۔ ادھر، ایس پی لینا پاٹل نے ان الزامات کو سرے سے خارج کر دیا اور کہا کہ یہ آپسی جھگڑے کا معاملہ لگتا ہے ۔ انہوں نے یو این آئی سے کہا کہ واقعہ سے متعلق جوسی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کو ملے ہیں ان سے صاف ہو گیا ہے کہ یہ جے شری رام کا نعرہ لگانے کے سلسلے میں ہونے والا جھگڑا تو بالکل نہیں ہے ۔ فوٹیج میں دونوں کو ساتھ ساتھ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ۔ وہ ایک دوسرے سے بحث بھی کر رہے ہیں اور گالیاں دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں تفتیش ابھی جاری ہے