خارش کی شکایت ، صاف و صفائی لازمی شرط ، ڈاکٹر ایس اے مجید
حیدرآباد۔ حکومت گجرات کے محکمہ صحت کی جانب سے ریاست میں میکورمائیکوسیس نامی بیماری کے سلسلہ میں اڈوائزری جاری کرتے ہوئے عوام کو احتیاط برتنے کی خواہش کی گئی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس بیماری کے سبب اموات کے 50 فیصد تک خدشات ہوتے ہیں اور شہریو ںکی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اس بیماری کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر ایس اے مجید نے اس بیماری کے سلسلہ میں دریافت کرنے پر بتایا کہ یہ ایک طرح کی خارش ہے اور اس سے محفوظ رہنے کے لئے لازمی ہے کہ شہری صاف صفائی کا خصوصی خیال رکھیں اور بیکٹیریا کو ختم کرنے والے صابن کا استعمال لازمی کرلیں۔انہوں نے بتایا کہ اس بیماری کا کوئی واضح علاج موجود نہیں ہے لیکن اس بیماری کو لا علاج بھی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ مختلف ادویات کے ذریعہ اس کا علاج کیا جاتا ہے اور اس علاج کے دوران مریض کی موت بھی واقع ہوتی ہے اسی لئے اس بیماری کو مہلک قرار دیا جاتا ہے ۔ڈاکٹر ایس اے مجید نے کہا کہ اس بیماری سے محفوظ رہنے کیلئے لازمی ہے کہ صفائی کے ساتھ ساتھ کسی بھی طرح کی الرجی اور خارش کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع ہوتے ہوئے علاج کا آغاز کریں۔محکمہ صحت گجرات کی جانب سے جاری کی جانے والی اڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ میکورمائیکوسیس بیماری کا شکار ہونے والوں میں سر درد‘ چہرے پر سوجن‘ کھانسی کے علاوہ سانس لینے میں تکلیف اور تنفیس کے مسائل کی نشاندہی کی جانے لگی ہے اور ان علامات کی صورت میں فوری اس کے علاج کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔محکمہ صحت گجرات کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر میں یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ شہری راست مٹی اور دھول سے محفوظ رہنے کیلئے ماسک کے استعمال کے علاوہ جسم کو کھلا رکھنے والے کپڑوں کے استعمال کو ترک کریں علاوہ ازیں اگر کسی جگہ زخم ہوتو اسے بہتر انداز میں صاف کرتے رہیں تاکہ اس زخم کی جگہ کوئی خارش پیدا نہ ہو ۔محکمہ نے واضح کیا کہ یہ مرض انسان سے انسان یا جانوروں کو منتقل نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود اس مرض میں مبتلاء لوگوں سے احتیاط اور راست ان سے مس کرنے سے اس وقت تک اجتناب ضروری ہے جب تک علاج جاری رہتا ہے۔