1984ء کے معاملہ میں کارروائی پر سماجی جہدکاروں کا اظہار تشویش
حیدرآباد 14 اکٹوبر (سیاست نیوز) گجرات میں ایک ریٹائرڈ آئی پی ایس عہدیدار کلدیپ شرما کے خلاف 1984ء کے ایک معاملہ میں مقدمہ درج کیا گیا اور گجرات کی بی جے پی حکومت کے اِس اقدام سے سیول سوسائٹی اور عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ بی جے پی اور خاص طور پر نریندر مودی اور امیت شاہ کے کٹر مخالف کلدیپ شرما کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا۔ کلدیپ شرما 1984ء میں ایک کانگریس لیڈر پر حملہ کے معاملہ میں ملزم ہیں۔ سابق ڈی آئی جی گجرات کو موجودہ مرکزی وزیرداخلہ اور سابق وزیر گجرات امیت شاہ کی جانب سے کیتن پاریکھ کو ضمانت کی منظوری کے سلسلہ میں 2.5 کروڑ کی رشوت کے معاملہ میں بھی ماخوذ کیا گیا ہے۔ کیتن پاریکھ 2005ء میں 1600 کروڑ کے بینک اسکام میں ملوث ہیں۔ گجرات کا یہ کوآپریٹیو بینک تحقیقات کے دائرہ میں ہے اور امیت شاہ اِس کے ڈائرکٹرس میں سے ایک ہیں۔ کلدیپ شرما نے ایڈیشنل ڈی جی پی سی آئی ڈی کے طور پر امیت شاہ کے خلاف رشوت ستانی کے معاملہ کی جانچ کی تھی۔ اُن کا تبادلہ کرتے ہوئے گجرات اسٹیٹ شیپ اینڈ وول ڈپارٹمنٹ کیا گیا جہاں اُنھوں نے منیجنگ ڈائرکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 31 آئی اے ایس عہدیداروں کے بعد یہ پہلے آئی پی ایس عہدیدار تھے جنھیں ڈپارٹمنٹ میں تعینات کیا گیا۔ کلدیپ شرما آئی اے ایس عہدیدار پردیپ شرما کے بھائی ہیں جنھوں نے 1981ء میں گجرات ایڈمنسٹریٹیو سرویس جوائن کی تھی۔ ڈپٹی کلکٹر کے عہدہ پر فائز کئے جانے کے بعد اُنھیں 1999ء میں آئی اے ایس کیلئے منتخب کیا گیا۔ 2001ء میں زلزلے کے وقت پردیپ شرما کچھ ضلع کے کلکٹر تھے۔ اُنھوں نے اُس وقت کے چیف منسٹر نریندر مودی کا بھروسہ حاصل کرتے ہوئے بڑے پیمانہ پر بازآبادکاری کے کام انجام دیئے تھے۔ کچھ میں ایک نوجوان خاتون آرکیٹکٹ کی جاسوسی کے منظر عام پر آنے کے بعد وہ معتوب ہوگئے کیوں کہ جاسوسی نریندر مودی کی ایماء پر کی گئی تھی۔ کلدیپ شرما نے مبینہ جاسوسی معاملہ کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار پردیپ شرما 15 مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ سینئر ایڈوکیٹ آئی ایچ سید کے مطابق گجرات ہائیکورٹ میں سیشن جج کے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی گئی ہے۔ عدالت نے معطلی اور سزا پر فیصلہ محفوظ کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ غیر ضمانتی وارنٹ کو بھی چیلنج کیا جائے گا۔ 1976ء میں آئی پی ایس سرویس میں شامل ہونے والے کلدیپ شرما سی آئی ڈی کے سربراہ کے طور پر سہراب الدین شیخ کے فرضی انکاؤنٹر میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔1