دائیں بازو کے عناصر ملوث رہنے کی تردید۔ پولیس کا بیان ۔ پانچ شرپسندوں کی نشاندہی
حیدرآباد 4 جولائی ( سیاست نیوز ) سدی پیٹ ضلع کے گجویل ٹاؤن میں ایک مسجد پر سنگباری کی اطلاعات ہیں۔ گجویل ٹاؤن میں پیر کی شام سے فرقہ وارانہ کشیدگی پائی جاتی ہے ۔ منگل کو فرقہ پرست تنظیموں کے سینکڑوں کارکنوں نے گلیوں میں گھومتے ہوئے نعرہ بازی بھی کی ۔ اس دوران سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ کچھ شرپسند عناصر گجویل کی ایک مسجد پر سنگباری کر رہے ہیں۔ اس ساری ہنگامہ آرائی کے دوران مسجد کے دروازے بند ہی رہے ۔ سدی پیٹ کی کمشنر پولیس این شویتا سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس ہنگامہ آرائی میں دائیں بازو کے شرپسند عناصر کے ملوث رہنے کی تردید کی ۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہا کہ کچھ افراد کے ایک گروپ نے سنگباری کی ہے ۔ پولیس نے اس واقعہ کے پس پردہ محرک پانچ افراد کی نشاندہی کی ہے اور بہت جلد انہیں حراست میں لے لیا جائیگا ۔ کہا گیا ہے کہ شیواجی مجسمہ کے قریب ایک شخص کے رفع حاجت پر کشیدگی پیدا ہوگئی تھی جب مقامی ہندو افراد نے اس پر شدید اعتراض کیا اور اس مسلم شخص کو نہ صرف مارپیٹ کی گئی بلکہ اسے گلیوں میں نیم برہنہ حالت میں گشت بھی کروایا گیا ۔ دائیں بازو کی فرقہ پرست تنظیموں نے یہاں منگل کو بند کا اعلان بھی کیا تھا ۔ حالانکہ اس شخص کو پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا تاہم اس اطلاع کو تیزی سے وائرل کردیا گیا جس پر کشیدگی پیدا ہوگئی ۔ اس واقعہ کے بعد پولیس نے علاقہ میں گشت بڑھا دی اور سکیوریٹی میں اضافہ کردیا گیا ۔ گجویل ٹاون کے کچھ حصوں میں آج دوکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے ۔