گداگروں کی بازآبادکاری کے اقدامات

   


حیدرآباد ، مرکزی حکومت کے پائلیٹ پراجکٹ میں شامل

حیدرآباد : گداگروں کی بازآباد کاری کو جی ایچ ایم سی کی سرگرمیوں کی فہرست میں، شہر حیدرآباد کو گداگروں کی جامع بازآباد کاری کے لئے مرکزی حکومت کے پائلٹ پراجکٹ میں شامل کئے جانے کے بعد پھر اولین ترجیح دی جارہی ہے۔ مرکزی وزارت سماجی انصاف و ایمپاورمنٹ کی جانب سے عملدرآمد کئے جانے والے پائلٹ پراجکٹ کیلئے منتخب دس شہروں میں حیدرآباد شامل ہے۔ دوسرے شہر پونے، ممبئی، چینائی، بنگلورو، دہلی، کولکتہ، لکھنؤ، اندور اور ناگپور ہیں۔ جی ایچ ایم سی نے 4 کروڑ روپئے کیلے تجاویز اور ایکشن پلان داخل کئے تھے اور گذشتہ مارچ میں اس پراجکٹ کیلئے 2 کروڑ روپئے منظور کئے گئے تھے۔ باقی رقم میں ، 40 فیصد اس پروگرام پر عمل کی رپورٹ داخل کرنے پر جاری کئے جائیں گے اور 10 فیصد پراجکٹ کی تکمیل کی رپورٹ داخل کرنے پر۔ مرکزی وزارت کے ساتھ 13 جنوری کو منعقد ہونے والی ایک آن لائن میٹنگ کے پیش نظر جی ایچ ایم سی کمشنر ڈی ایس لوکیش کمار نے فیلڈ سطح کے عہدیداروں کو ایک سرکیولر میں ہدایت جاری کرتے ہوئے ان سے گداگروں کی بازآباد کاری پر توجہ دینے کی ہدایت دی ہے۔ چنانچہ گداگروں کو رسکیو ہومس منتقل کرنے سے قبل ان کی نشاندہی کرنے کیلئے ایک سروے کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کیلئے اسکل ڈیولپمنٹ ٹریننگ کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ انہیں سماج کے اصل دھارے میں لایا جائے اور وہ وقار اور خوداعتمادی کے ساتھ زندگی گذاریں۔ اس سرکیولر میں تمام زونل اور ڈپٹی کمشنرس سے کہا گیا کہ سرکل اور زون سطح کی ٹاسک فورس کمیٹیوں کے اجلاس طلب کئے ہیں اور گداگروں کی نشاندہی کی جائے۔ ہر زون میں بنیادی سہولتوں اور انفراسٹرکچر کے ساتھ رسکیو ہومس کیلئے مناسب عمارتوں کی نشاندہی کی جائے۔ رہنمایانہ خطوط کے مطابق ہر شیلٹر ہوم کم از کم 50 تا 100 اشخاص کیلئے ہونا چاہئے۔ مردوں، خواتین، بچوں اور ٹرانسجنڈرس کیلئے رہنے کا انتظام علحدہ ہونا چاہئے۔ اس طرح کے اشخاص کو اصول صحت کے مطابق سہولتیں، غذا، کپڑے، بستر، طبی سہولتیں، کونسلنگ اور تعلیم این جی اوز کو شامل کرتے ہوئے فراہم کئے جانے چاہئے۔ بینک اکاؤنٹس کھولنے کے ساتھ آدھار رجسٹریشن کیا جائے۔ بچوں کی صورت میں انہیں تعلیم کا انتظام اور انہیں اسکول کے بعد ٹیوشن فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ بالغ لوگوں کیلئے اسکل ڈیولپمنٹ پروگرامس کا انعقاد اور انہیں مناسب روزگار جیسے سیکوریٹی گارڈس، ڈومیسٹک ہیلپس اور ترکاری فروش کے کاموں میں لگایا جانا چاہئے۔ جسمانی ؍ ذہنی طور پر معذور اشخاص کیلئے درکار مدد فراہم کی جانی چاہئے اور ان کیلئے فلاحی اقدامات کرنے ہوں گے۔