گذشتہ انتخابات میں کم مارجن سے کامیابی حاصل کرنے والے امیدوار مخمصے میں

   

حیدرآباد ۔ 5 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے امیدوار ، جنہوں نے 2018 کے انتخابات اور ضمنی انتخابات میں معمولی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی اب مخمصے میں ہیں ۔ حالانکہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 115 امیدواروں کا اعلان کیا ہے پھر بھی کئی ارکان اسمبلی کو ناراضگی کا سامنا ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ مبینہ طور پر یہ صورتحال ان علاقوں میں زیادہ ہے جہاں ووٹوں کا مارجن بہت کم تھا ۔ ذرائع نے کہا کہ بی آر ایس کی جانب سے کروائے گئے سروے میں بھی پارٹی اضلاع کھمم اور نلگنڈہ میں پیچھے ہے اور محبوب نگر بھی اس میں شامل ہوسکتا ہے ۔ اگر سروے کے نتائج خراب رہیں توان اضلاع میں جن امیدواروں کا اعلان کیا گیا ہے اس میں تبدیلی کی جاسکتی ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ لمحہ آخر کے انتظام کے حصہ کے طور پر بعض امیدواروں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ مثال کے طور پر نلگنڈہ میں کم از کم چھ حلقوں میں 2018 کے انتخابات میں تمام پارٹیوں کے تمام امیدواروں کے لیے مارجن 10 ہزار سے کم تھا ۔ اسی طرح کھمم میں کم از کم چھ حلقوں میں کامیابی کا مارجن 10,000 سے کم تھا ۔ بی آر ایس نے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان دو اضلاع میں گذشتہ پانچ سال میں کوئی زیادہ مقبولیت حاصل نہیں کی ہے ۔ بی آر ایس ذرائع نے کہا کہ ’ نلگنڈہ اور کھمم بی آر ایس کے مضبوط قلعے نہیں ہیں لیکن گذشتہ دو میعادوں سے ابھرے ہیں ۔ یہ دو مقامات پہلے کانگریس کے ساتھ تھے ۔ لوگ ہمیشہ نئے لوگوں کو موقع دینے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ 2018 کے اسمبلی انتخابات میں تمام جماعتوں کے کم از کم 30 امیدواروں نے 10,000 سے کم مارجن سے کامیابی حاصل کی تھی ۔۔