33 کروڑ روپئے مختص۔ 300 سے زائد ٹیموں کی تشکیل
حیدرآباد : گذشتہ سال سیلاب کی وجہ سے جی ایچ ایم سی کے حدود میں بڑے پیمانے پر جانی مالی نقصانات پیش آئے تھے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے جون کے پہلے ہفتہ میں مانسون تلنگانہ میں داخل ہونے کی پیش قیاسی کی گئی ہے جس کے بعد گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتیاطی اقدامات کا آغاز کیا گیا ہے۔ زونس اور سرکلس کی سطح پر 300 سے زائد مانسون ٹیموں کو تشکیل دیتے ہوئے انہیں میدان میں اتارا گیا ہے اور تقریباً 33 کروڑ روپئے کے کام کرنے کی خصوصی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ بارش ہونے پر پانی کی نکاسی کیلئے جی ایچ ایم سی کے انجینئرنگ مینٹنس کا شعبہ اور (ڈی آر ایف) کی ٹیمیں مشترکہ طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون و اشتراک کرتے ہوئے کام کریں گے۔ موسم بارش کے پیش نظر ان ٹیموں کو 24 گھنٹے دستیاب رکھنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ بارش کا پانی جمع ہونے والے مقامات پر ان ٹیموں کو متحرک رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ گریٹر حیدرآباد 138 مقامات پر پانی جمع ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آبگیر علاقوں میں جمع کچرے کی نکاسی کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ بارش کے دوران سڑکوں اور کالونیوں میں جھاڑوں کے گرنے پر اس کی فوری صفائی کیلئے ٹیموں کو تیار رکھا گیا ہے۔ اس کیلئے 114 گاڑیوں کی خدمات سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ ہر گاڑی میں 4 عملہ موجود رہے گا۔