گذشتہ پانچ برس میں ریاست میں کوئی فاضل آمدنی نہیں ہوئی

   

سابقہ قرض کی ادائیگی کیلئے نئے قرض حاصل کئے گئے : سی اے جی رپورٹ
حیدرآباد۔15 مارچ(سیاست نیوز) کمپٹرولر اینڈ آڈٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے سال 2019-20کے دوران حاصل کئے گئے قرض کا سابقہ قرض کی ادائیگی کیلئے استعمال کیا گیا ہے اورحکومت نے گذشتہ 5برسوں کے دوران کوئی فاضل آمدنی حاصل نہیں کی ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ایوان میں پیش CAG رپورٹ میں کہا گیا کہ تلنگانہ میں 5 برسوں کے دوران فاضل آمدنی ریکارڈ نہیں کی ہے جبکہ معاشی ذمہ داری اور بجٹ مینجمنٹ قوانین کے تحت قرض حاصل کئے گئے ہیں۔ اسمبلی میں پیش رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ سال 2019-20 کے دوران حکومت کی جانب سے تعلیم اور صحت کے میدان میں کوئی قابل ذکر سرمایہ کاری یا اخراجات نہیں کئے گئے ۔ حکومت کی جانب سے گذشتہ 5برسوں کے دوران مقرر کئے گئے فاضل آمدنی کے نشانہ کو مکمل نہیں کیا جاسکا ہے۔ حکومت کے محصلہ قرضہ جات کا CAG رپورٹ میں تذکرہ کرکے کہا گیا کہ سال 2019-20 کے دوران حکومت نے جو قرض حاصل کیا اس میں 75 فیصد حصہ پہلے سے لئے گئے قرضہ جات کی ادائیگی کیلئے استعمال کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیاگیا کہ حکومت بازار سے حاصل قرضہ جات کے سبب 97 فیصد خسارہ کا شکار ہے جبکہ حکومت نے بجٹ میں ذکر کئے گئے قرضہ جات سے کافی زیادہ قرض حاصل کیا ہے۔سال 2019-20کے دوران حکومت سے کوئی نئے اثاثہ جات تیار کرنے کے اقدامات نہیں کئے گئے بلکہ قرض کی ادائیگی کے لئے قرض حاصل کیا گیا ہے۔م