بیسک اور پے اسکیل میں 50 فیصد اضافہ کی سفارش کی گئی۔ صدرنشین پی آر سی کمیشن چترنجن بسوال کا دعویٰ
حیدرآباد۔ پی آر سی کمیشن کے صدر نشین چترنجن بسوال نے کہاکہ موجودہ پی آر سی سفارشات گذشتہ پی آر سی کے مقابلہ کم ضرور ہیں مگر دیگر ریاستوں سے کہیں زیادہ ہیں یہاں تک کہ مرکزی ملازمین کی بیسک تنخواہ 18 ہزار ہے مگر ہم نے تلنگانہ ملازمین کیلئے بیسک تنخواہ 19 ہزار روپئے کی سفارش کی ہے۔ ہم نے زیادہ کی اُمید نہ رکھنے کی پہلے ہی ملازمین سے اپیل کی تھی۔ 7.5 فیصد فٹمینٹ سفارش پر ملازمین کی ناراضگی اور ماضی میں 43 فیصد فٹمینٹ کا حوالہ کے سوال پر بسوال نے کہا کہ ماضی کے فٹمینٹ سے موجودہ فٹمینٹ کا تقابل نہیں کرنا چاہیئے تب حالات الگ تھے اب حالات الگ ہیں۔ ریاست کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ کورونا اور لاک ڈاؤن سے ٹیکسوں کی وصولی مشکل ہوگئی ہے ۔ ایسے میں مزید مالیاتی بوجھ ناقابل برداشت ہوگا۔ اگر ان کے سفارش کردہ 7.5 فیصد فٹمینٹ کو حکومت قبول کرتی ہے تو سالانہ سرکاری خزانہ پر 2200 تا 2500 کروڑ روپئے کا بوجھ عائد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی آر سی کا ملازمین کی سوچ و فکر پر نہیں بلکہ حساب کتاب پر انحصار ہوگا۔ سابق میں پی آر سی میں بیسک تنخواہ 13 ہزار روپئے تھی جس کو اب بڑھاکر 19ہزار کیا گیا ۔ماضی کی بہ نسبت 50فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ماضی میں پے اسکیل 1.10 لاکھ تھی اضافہ کرکے 1.62 لاکھ کردی گئی ہے۔ اس میں بھی 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بڑھتے اخراجات محکمہ فینانس کی رپورٹ اور دیگر اُمور کو پیش نظر رکھ کر رپورٹ تیار کی گئی ۔ مرکزی سرکاری ملازمین کیلئے جو تنخواہوں ہیں تلنگانہ اس سے کہیں بہتر ہے۔ تلنگانہ کے ملازمین کی تنخواہیں ملک کی دیگر ریاستوں سے کم نہیں ہیں ۔ کچھ لوگ اس کا موازنہ آندھرا پردیش سے کررہے ہیں وہاں سابق حکومت نے انتخابات سے قبل 20 فیصد عبوری الاؤنس کا اعلان کیا تھا ۔ نئی حکومت نے اس کو 27 فیصد بنایا ہے لہذا سیاسی حالات میں جو فیصلہ لیا گیا اس کا تقابل نہیں کیا جانا چاہئے ۔ گذشتہ پی آر سی کے مقابلہ میں اوسطاً ماہانہ ایک خاندان کے اخراجات میں 5 ہزار کا اضافہ ہوا ۔ اسکے مطابق تنخواہوں میں اضافہ کی سفارش کی گئی ۔ فیصلہ سے قبل محکمہ فینانس کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا ۔ اس لحاظ سے بیسک تنخواہ 18 ہزار روپئے ہونی چاہیئے مگر ہم نے 19 ہزار روپئے کی سفارش کی ہے۔