گرام سبھا 10 منٹ میں برخاست‘ عوامی مسائل نظر انداز

   


حکومت کے پروگرام میں 4 ایم پی ٹی سی اور 16 وارڈ ممبرس کی عدم شرکت لمحہ فکر
کوہیر۔ 2؍اکٹوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔ ریاستی حکومت کی ہدایت پر مہاتما گاندھی کے یوم پیدائش کے موقع پر تلنگانہ ریاست بھر میں ہر گرام پنچایت میونسپلٹی کارپوریشن میں گرام سبھا کا ایک خصوصی اجلاس منعقد کرنے کے احکامات جاری کئے گئے جس میں عوامی مسائل حل کرنے کے لئے عوامی نمائندے سرپنچ، ڈپٹی سرپنچ اور اراکین منڈل پرجا پریشد اور وارڈ ممبرس کی موجودگی میں گرام پنچایت سکریٹری کی قیادت میں ضروری عوامی مسائل پر شعور بیداری کرنے حکومت کا ایجنڈا گرام سبھا میں پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس ضمن میں گرام پنچایت کوہیر میں آج 2 اکٹوبر کے موقع پر گرام سبھا سرپنچ عطیہ جاوید کی زیر صدارت منعقد کی گئی تھی۔ اس گرام سبھا میں ای او (پنچایت سکریٹری) لکشمن چاری ایجنڈا پڑھ کر سنایا۔ عوام منتخب ہونے والے ایم پی ٹی سی اور وارڈ ممبرس اس اجلاس میں غیر حاضر ہونا ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے جب کہ کوہیر منڈل مستقر میں 4 ایم پی ٹی سی اور 18 وارڈ ممبرس ہیں، جن میں صرف دو حاضر ہوکر صرف 10 منٹ بعد ہی واپس ہوگئے۔ اس اجلاس کا اہم مقصد یہی ہے کہ اپنے اپنے وارڈس میں عوامی مسائل گرام سبھا میں زیر بحث لاتے ہوئے ان کو حل کرنا ہوتا ہے۔ یہاں پر مسائل اٹھانے کی بجائے اس اجلاس سے غیر حاضر رہے۔ اس طرح کے اہم اجلاس سے غیر حاضر ہونا عوامی نمائندوں عوامی مسائل سے کتنی ہے، معلوم ہوتا ہے۔ اس موقع پر سنگل یوز پلاسٹک اور صاف صفائی اور ہر گھر بیت الخلاء، کچرا کچرے دان میں ڈالنا، سوچھ بھارت سوچھ تلنگانہ سوچھ کوہیر کے انجام دینا ہوتا ہے۔ کوہیر میجر گرام پنچایت میں تقریباً 25 ہزار آبادی رہتی ہے جن کے 18 وارڈ ممبرس ہیں اور 4 ایم پی ٹی سی ہیں، اس طرح کے اہم اجلاس میں غیر حاضر ہونا معنی خیز ہے۔ اس اجلاس میں گرام پنچایت ورکرس آنگن واڑی ٹیچرس بشمول صرف 18 افراد نے شرکت کی۔