لکھنؤ: اتر پردیش اے ٹی ایس کی جانب سے دہشت گردی کے سنگین الزامات کے تحت دو مختلف مقدمات میں گرفتار 11 مسلم نوجوانوں کی ضمانت پر رہائی کی درخواست لکھنؤ ہائی کورٹ میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء ہند(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے داخل کی گئی ہے۔ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کی ہدایت پر ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ فرقان پٹھان اور ایڈوکیٹ مجاہد احمد نے ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں داخل کی ہیں۔القاعدہ برصغیر نامی دہشت گرد تنظیم کے مبینہ رکن ہونے کے الزامات کے تحت یو پی اے ٹی ایس نے ملزمین لقمان احمد، محمد حارث، آس محمد، محمد علیم، محمدنوازش انصاری،مدثر، محمد مختار، قاری شہزاد اور علی انور کو گرفتار کیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینا چاہتے تھے جبکہ یو پی اے ٹی ایس نے ہی جیش محمد نامی تنظیم سے مبینہ تعلق کے الزام محمد ندیم اور حبیب السلام کو گرفتار کیا تھا۔ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں ٹیکنیکل گراؤنڈ پر داخل کی گئی ہیں کیونکہ تفتیش کے لیئے متعین مدت پوری ہونے کے باوجود تفتیشی ایجنسی نے عدالت میں چارج شیٹ داخل نہیں کی اس کے برخلاف عدالت نے تفتیشی ایجنسی کی مدت میں اضافہ کی عرضداشت کو ملزمین کے علم میں لائے بغیر اور انہیں اپنے موقف کا اظہار کرنے کا موقع دیئے بغیر تفتیشی ایجنسی کو تفتیش مکمل کرکے چارج شیٹ داخل کرنے کے لیئے مزید نوے دنوں کی مہلت دے دی۔