بی جے پی سے مایوسی، کانگریس سے امیدیں، ڈپٹی چیف منسٹر کرناٹک ڈی کے شیو کمار سے بات چیت کی اطلاعات
حیدرآباد۔/12ستمبر، ( سیاست نیوز) صدر تلگودیشم و سابق چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو کو امتحان کی اس گھڑی میں مضبوط سہارے کی تلاش ہے۔ اِسکل ڈیولپمنٹ اسکام میں سی بی سی آئی ڈی کی جانب سے گرفتاری کے بعد چندرا بابو نائیڈو کو امید تھی کہ بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کی تائید حاصل ہوگی لیکن بی جے پی اور این ڈی اے نے نائیڈو کو مایوس کردیا لہذا نائیڈو اب کانگریس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق 2019 انتخابات کی طرح چندرا بابو نائیڈو تلنگانہ اور آندھرا پردیش دونوں ریاستوں میں دوبارہ کانگریس کے ساتھ مفاہمت کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آندھرا پردیش میں دوبارہ اقتدار حاصل ہو۔ جنوبی ہند میں کانگریس سے مفاہمت کے سلسلہ میں کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیو کمار کی منظوری ضروری ہے لہذا چندرا بابو نائیڈو نے گرفتاری سے قبل شیو کمار سے فون پر بات چیت کی۔ اطلاعات کے مطابق ریونت ریڈی کی کرناٹک میں موجودگی کے موقع پر شیو کمار سے نائیڈو نے فون پر بات کرتے ہوئے کانگریس سے مفاہمت کا ارادہ ظاہر کیا۔ بات چیت کی تفصیلات کا اگرچہ فوری طور پر علم نہیں ہوا تاہم کانگریس کے قائدین کا کہنا ہے کہ ڈی کے شیو کمار کی رپورٹ پر مفاہمت کا انحصار رہے گا۔ جنوبی ریاستوں میں کسی بھی اہم شخصیت کی کانگریس میں شمولیت یا سیاسی پارٹیوں سے مفاہمت کے بارے میں فیصلہ کا اختیار ڈی کے شیو کمار پر چھوڑ دیا گیا ہے جو جنوبی ہند کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی میں اہم رول ادا کرنے والے ڈی کے شیو کمار تلنگانہ کی سیاست میں درپردہ اہم رول ادا کررہے ہیں۔ پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے کوئی اہم فیصلہ کرنا ہو تو شیو کمار کی منظوری حاصل کی جارہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ریونت ریڈی اور دیگر سینئر قائدین نے بنگلور پہنچ کر شیو کمار سے ملاقات کی۔ بتایا جاتا ہے کہ ریونت ریڈی چاہتے ہیں کہ ان کے سابق سیاسی گروہ چندرا بابو نائیڈو کانگریس کی چھتر چھایہ میں محفوظ ہوجائیں اور کانگریس کی تائید سے آندھرا پردیش میں اقتدار پر واپسی ہو۔ اِسکل ڈیولپمنٹ اسکام میں گرفتاری کے بعد چندرا بابو نائیڈو کو ملک بھر سے تائید کی امید تھی لیکن انہیں مایوسی ہوئی۔ 2014 میں بی جے پی اور 2019 میں کانگریس سے مفاہمت کے باوجود دونوں پارٹیوں نے گرفتاری کے مسئلہ پر کوئی ہمدردی نہیں جتائی۔ مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی نے چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری کی مذمت کی۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشک بنرجی نے کہا کہ غیر ضروری طور پر نائیڈو کے خلاف انتقامی کارروائی کی گئی۔ بی جے پی آندھرا پردیش یونٹ کی صدر پورندیشوری اور تلنگانہ میں بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر لکشمن نے رسمی طور پر گرفتاری کی مذمت کی۔ سی پی آئی اور سی پی ایم نے چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری کو جگن حکومت کی انتقامی کارروائی قرار دیا۔ محدود تعداد میں مذمت سے چندرا بابو نائیڈو اور ان کی ٹیم مطمئن نہیں ہے۔ انہیں امید تھی کہ مرکز میں نریندر مودی حکومت کے فیصلوں کی تائید کے عوض میں بی جے پی ہائی کمان گرفتاری پر سخت موقف اختیار کرے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ گرفتاری چندرا بابو نائیڈو کو کانگریس اور بی جے پی میں کس سے قریب کرے گی۔