ٹینکرس کی فروخت اسکام پر خصوصی نظر کی ضرورت ، محکمہ آبرسانی خاموش تماشائی
حیدرآباد۔9۔اپریل(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں موسم گرما کے شدت اختیار کرتے ہی ٹینکرس مافیا سرگرم عمل ہوچکا ہے اور ٹینکرس کی فروخت کے اسکام پر خصوصی نگاہیں مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ شہر کے کئی علاقوں میں زیر زمین پانی بورویل کے ذریعہ ٹینکر میں منتقل کرتے ہوئے خانگی واٹر مافیا اس پانی کی فروخت میں مصروف ہے ۔دونوں شہروں میں ٹینکر مافیا کی سرگرمیوں سے محکمہ آبرسانی کے عہدیداربھی واقف ہیں لیکن اس کے باوجود خانگی واٹر مافیا کی جانب سے فروخت کئے جانے والے پانی کو روکنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے بلکہ ان سرگرمیوں کے متعلق واقفیت کے باوجود انہیں نظرانداز کیا جاتا ہے ۔پانی کی فروخت صرف ہمہ منزلہ کامپلکس یا ضرورت مند شہریوں کو نہیں بلکہ شہر کے سرکردہ دواخانوں اور ہوٹلوں میں بھی یہی پانی فروخت کیا جا تا ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔ حیدرآباد و سکندرآباد میں فروخت کئے جانے والے پانی کے متعلق محکمہ آبرسانی اور دیگر متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے اختیار کی جانے والی لا پرواہی کا جائزہ لیا جائے تو صرف شہری حدود میں ہی لاکھوں روپئے کا پانی غیر مجاز طور پر فروخت کیا جاتا ہے اور اس پانی کی فروخت کرنے والوں کو بھی اس بات کا علم ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر پانی کی فروخت انجام دے رہے ہیں لیکن انہیں کسی کا کوئی خوف نہیں ہے۔ شہر میں پینے کے بوتل بند پانی کی فروخت کے لئے درکار اجازت ناموں کے بغیر اس کی فروخت عام ہوتی جا رہی ہے اور ان بوتل بند پانی کی کھلے عام فروخت دیگر برانڈیڈ پانی کی بوتلوں کے مساوی وصولی کی جارہی ہیں اور اسی طرح بوتل بند پانی کے علاوہ 10 لیٹر و 20 لیٹر پانی کے ڈبوں اور ٹینکرس کی بھی فروخت عملی میں لائی جا رہی ہے۔بوتل بند پانی کے اپنے برانڈ بناتے ہوئے من مانی قیمتوں کا تعین کرنا اور انہیں ہوٹلوں میں فروخت کیا جانا عام بات ہوچکی ہے لیکن شہر میں خانگی بورویل سے پانی ٹینکرس میں بھرتے ہوئے فروخت کرنے والی ٹینکرس کی غیر قانونی آمد و رفت کے باوجود متعلقہ محکمہ جات کی خاموشی اور بوتل بند پانی کی من مانی فروخت پر خاموشی عوام کو کھلے عام لوٹنے کی اجازت دینے کے مترادف ہے۔ پرانے شہرکے علاوہ نئے شہر کے کئی مقامات پر گنجان آبادیوں میں خانگی بورویلس کے ذریعہ ٹینکرس میں پانی بھرتے ہوئے اس پانی کی فروخت کے خلاف محکمہ پولیس اور محکمہ آبرسانی نے چند برس قبل کاروائی کی تھی اور پھر اس مسئلہ کو نظر انداز کردیا گیا جبکہ حالیہ عرصہ میں پانی کی غیر مجاز فروخت میں کافی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود محکمہ جات کی نظر انداز والی پالیسی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محکمہ جات کی جانب سے’’ واٹر مافیا‘‘ کو کھلی چھوٹ فراہم کی جا رہی ہے جس کے ذریعہ وہ غیر معیاری پانی کی فروخت کے ذریعہ عوامی دولت کو لوٹنے کے علاوہ صحت عامہ سے کھلواڑ کا موجب بن رہے ہیں۔3