مدینہ منورہ: خدا کے مقدس گھر میں داخل ہونے کا قصد کرنے والوں کیلئے بیت اللہ کا ننگے پاؤں گرمیوں میں طواف کرنا ایک مشکل امر تھا مگر سعودی عرب کی حکومت نے ضیوف الرحمن کی اس مشکل کا بھی حل نکال لیا ہے۔ اب پچاس ڈگری سینٹی گریڈ میں بھی زائرین کو حرم مکی میں ننگے پاؤں چلتے ہوئے ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔مگر اس کا سہرا حرم مکی میں استعمال ہونے والے ماربل کے معیار کو جاتا ہے جہاں یہ سنگ مرمر یونان کے جزیرے تھاسوس سے درآمد کیا جاتا ہے اور اسے تھاسوس ماربل کہا جاتا ہے جو روشنی اور حرارت کو منعکس کرتا ہے۔صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین کے مطابق مسجد حرام میں استعمال ہونے والے سنگ مرمر کی موٹائی 5 سینٹی میٹر تک پہنچ جاتی ہے، کیونکہ یہ دوسروں سے اس لحاظ سے ممتاز ہیکہ یہ رات کے وقت سوراخوں کے ذریعہ نمی جذب کرتا ہے اور دن کے وقت اس نمی کو خارج کرتا ہے۔ یہی چیز اسے زیادہ درجہ حرارت کی روشنی میں مستقل طور پر ٹھنڈا کر دیتی ہے۔