عوام کو احتیاط برتنے کی ضرورت ۔ شدید دھوپ میں باہر نکلنے سے گریز کا مشورہ
حیدرآباد۔ دونوں شہروں میں گرمی کی شدت سے موسم گرما کی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ جن شہریوں کو گرمی کا اثر تیزی کے ساتھ ہوتا ہے وہ ابتدائی گرما میں ہی اس سے پریشان ہونے لگے ہیں۔ گرما کی آمد کے ساتھ ہی دست و قئے کے علاوہ کھانسی اور سردی کے ساتھ آنکھوں کی سوزش‘ چہرے پر نشانات اور جلد پر خارش جیسی صورتحال ہونے لگتی ہے ۔ یہ بیماریاں موسم گرما کے دوران عام ہیں اور عموما اپریل کے اواخر میں ریکارڈکی جاتی تھیں لیکن اب شہر میں ماہ مارچ کے اوائل میں ان بیماریوں سے شہری دواخانوں سے رجوع ہونے لگے ہیں۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ حکومت کی ہدایات کے پیش نظر تمام عوامی مراکز صحت کے علاوہ بستی دواخانوں اور سرکاری دواخانوں میں خدمات کو بہتر بنانے اور گرمائی بیماریوں کے مریضوں کیلئے خصوصی علاج کی سہولت کی تاکید کی گئی ہے۔ گرما کی بیماریوں سے نمٹنے شہریو ںکو تیز دھوپ کے وقت باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہئے اور راست سورج کی شعاؤوں سے محفوظ رہنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ ماہرین طب کا کہناہے کہ موسم گرما میں پسینہ سے جسم میں پانی کا تیزی سے اخراج ہوتاہے اور اس کے نتیجہ میں دست و قئے کی شکایت ہوتیہے۔ اسی طرح سورج کی شعاؤوں کے ٹکرانے سے چہرے پر جلن ہونے لگتی ہے اور نشانات پڑنے لگتے ہیں۔ موسم گرما کی بیماریوں سے محفوظ رہنے زیادہ سے زیادہ سیال غذاء کے علاوہ ٹھنڈے قدرتی پھلوں کے استعمال کو ترجیح دینی چاہئے ۔ ڈاکٹرس نے بتایا کہ دونوں شہروں میں لو لگنے کے واقعات میں تو اضافہ نہیں ہوا ہے لیکن گرمائی بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ موسم گرما میںپانی کے استعمال میں اضافہ کے ساتھ ناریل پانی ‘ لیمو پانی ‘ تربوز‘ انگور اور ایسے پھل جن میں سیال مادہ زیادہ ہوتا ہے ان کے استعمال کو ترجیح دینی چاہئے تاکہ جسم میں پانی موجود رہے۔