گروپ ۔I اِمتحان : پرانے شہر کی طالبہ نسیم بانو نے ریاستی سطح پر 74 واں رینک حاصل کرلیا

   

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
مسلمانوں کا نام روشن ، ڈپٹی کلکٹر ، میونسپل کمشنر یا DSP کا عہدہ ملنے کا اِمکان

حیدرآباد۔ 9 اپریل (سیاست نیوز) قوم کی ایک اور بیٹی نے بہترین تعلیمی مظاہرے کے ساتھ مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کردیا۔ حال ہی میں جاری کردہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن (گروپ ۔I) کے امتحانات میں 492 مارکس حاصل کرتے ہوئے نسیم بانو نے تعلیمی میدان میں ایک تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے 492 نشانات حاصل کرتے ہوئے ریاستی سطح پر 74 واں رینک اور ملٹی زون ۔II میں 5 واں رینک حاصل کیا ہے۔ مسلمانوں میں تعلیمی میدان میں کچھ کردکھانے کے رجحان میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کی تازہ ترین مثال ملت کی یہ بیٹیاں ہیں۔ کل ہم نے تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ کے مریال گوڑہ سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ جویریہ کی خبر شائع کی تھی جس نے 465.5 مارکس حاصل کرتے ہوئے 162 واں رینک حاصل کیا ہے اور آج ہم پرانے شہر کے علاقہ شیو رام پلی کی ایک انتہائی ہونہار طالبہ نسیم بانو کی گروپ ۔I امتحان میں کامیابی کی تفصیلات پیش کررہے ہیں۔ نسیم بانو کے والدین جناب سید حسین مرحوم اور محترمہ شمیم بانو کی پانچ اولاد ہیں جن میں نسیم بانو کا آخری نمبر ہے۔ جناب سید حسین پولیس ڈپارٹمنٹ سے وابستہ تھے جبکہ ان کی ماں گھریلو خاتون ہیں۔ نسیم بانو بچپن ہی سے بہت ذہین تھیں ۔ ان کا تعلیمی مظاہرہ شاندار رہا۔ وہ IAS آفیسر بننا چاہتی تھیں اور اس کیلئے تیاری میں مصروف تھیں۔ جب گروپ سرویسیس کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تو وہ گروپ IV امتحان میں جونیر اسسٹنٹ کے طور پر بھی منتخب ہوئیں۔ فی الحال وہ فشریز ڈپارٹمنٹ میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ نسیم بانو کی ابتدائی تعلیم اقراء مشن ہائی اسکول سے ہوئی جبکہ انہوں نے نارائنا جونیر کالج سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کی۔ دکن اسکول آف فارمیسی سے بی فارمیسی ، گلوبل کالج آف فارمیسی سے پوسٹ گریجویشن کی تعلیم کی تکمیل کی۔ گروپ ۔I امتحان میں حاصل کردہ مارکس کی بنیاد پر نسیم بانو کو ڈپٹی کلکٹر ، میونسپل کمشنر یا DSP کا عہدہ ملنے کا امکان ہے۔ ملت میں ایسے کئی لڑکے لڑکیاں ہیں جن کی تھوڑی سی رہنمائی کی جائے تو وہ آسمان کی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں، صرف قوم کے ہمدردوں کو ایسے ہیروں کو ڈھونڈ کر انہیں تراشنے کی ضرورت ہے۔ نسیم بانو کے اس کارنامے پر اُن کے ارکان خاندان میں خوشی اورمسرت کی لہر پائی جاتی ہے۔ نسیم بانو نے اپنے اُستاد محمد خواجہ سابق ڈائریکٹر گورنمنٹ بی سی اِسٹڈی سرکل سے اظہار ِتشکر کیا۔ ٹی ایس میسا اُردو آفیسرس یونٹ کے صدر محمد اعجاز الدین احمد اور محمد خواجہ نے نسیم بانوکو اُن کی تاریخ ساز کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی۔2